نیویارک: اقوام متحدہ کے اگلے سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے لیے سلامتی کونسل جمعرات سے غیر رسمی اور خفیہ "اسٹرا پول” ووٹنگ کا آغاز کرے گی، جس کے ذریعے تنظیم کے نئے سربراہ کے لیے سامنے آنے والے سات امیدواروں کی حمایت کا ابتدائی اندازہ لگایا جائے گا۔
موجودہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس رواں سال کے اختتام پر اپنی دو پانچ سالہ مدت مکمل کرنے کے بعد عہدہ چھوڑ دیں گے، جس کے بعد نئے سربراہ کا انتخاب کیا جائے گا۔ نئے سیکریٹری جنرل کو ایک ایسے وقت میں ذمہ داریاں سنبھالنا ہوں گی جب اقوام متحدہ کو عالمی بحرانوں، مالی دباؤ، ادارہ جاتی اصلاحات اور مختلف ایجنسیوں کے درمیان کام کے تکرار جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔
اس مرحلے میں سلامتی کونسل کے 15 رکن ممالک ہر امیدوار کے بارے میں خفیہ رائے دیتے ہیں، جس میں وہ "حوصلہ افزائی”، "حوصلہ شکنی” یا "کوئی رائے نہیں” کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ ووٹنگ غیر رسمی اور غیر پابند ہوتی ہے، تاہم اس سے امیدواروں کی مجموعی حمایت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔
اس وقت دوڑ میں شامل امیدواروں میں ارجنٹائن سے رافیل گروسی، چلی کی سابق صدر مشیل بیچلیٹ، کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر ریبیکا گرین اسپین، ایکواڈور کی سابق وزیر خارجہ ماریا فرنینڈا ایسپینوسا، گیانا کی سابق وزیر خارجہ کیرولین روڈریگس برکیٹ، سینیگال کے سابق صدر میکی سال اور یوگنڈا کے سفارت کار اولارا اوتنو شامل ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق مزید امیدوار بھی بعد میں میدان میں آ سکتے ہیں۔
ابتدائی اسٹرا پولز میں تمام بیلٹ ایک جیسے ہوتے ہیں، جس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ کسی امیدوار کے خلاف ووٹ سلامتی کونسل کے مستقل پانچ ویٹو رکھنے والے ممالک، یعنی چین، فرانس، روس، برطانیہ یا امریکہ میں سے کسی کی جانب سے آیا ہے یا نہیں۔ بعد کے مراحل میں مستقل ارکان مختلف رنگ کے بیلٹ استعمال کرتے ہیں تاکہ ویٹو کے امکانات کا اندازہ لگایا جا سکے۔
آخرکار سلامتی کونسل کسی ایک امیدوار کے حق میں قرارداد منظور کر کے اس کا نام 193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بھیجے گی۔ سفارش کے لیے سلامتی کونسل میں کم از کم نو ووٹ اور کسی بھی مستقل رکن کی جانب سے ویٹو نہ ہونا ضروری ہوگا، جس کے بعد جنرل اسمبلی باضابطہ منظوری دے گی۔
سلامتی کونسل کے موجودہ صدر جمہوریہ کانگو ہیں، جبکہ اقوام متحدہ میں کانگو کے مستقل مندوب زینون موکونگو اینگے نے تصدیق کی ہے کہ اسٹرا پول کا پہلا مرحلہ جمعرات کی صبح منعقد ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ یوگنڈا کے امیدوار اولارا اوتنو بھی اس عمل میں شامل ہوں گے، اگرچہ وہ ابھی تک دیگر امیدواروں کی طرح غیر رسمی سماعتوں میں شریک نہیں ہوئے۔

