اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے حق مہر سے متعلق ایک اہم مقدمے میں فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ حق مہر میں درج جائیداد کسی تیسرے شخص کو فروخت کرنا بدنیتی پر مبنی عمل ہے اور اسے قانونی تحفظ حاصل نہیں ہو سکتا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ملتان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے حق مہر سے متعلق کیس کا فیصلہ سنایا۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اگر حق مہر میں شامل جائیداد کو کسی دوسرے شخص کے نام فروخت کیا جاتا ہے تو ایسا اقدام بدنیتی کے زمرے میں آتا ہے اور اس سے حق مہر کی قانونی حیثیت متاثر نہیں ہوتی۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ حق مہر عورت کا قانونی اور شرعی حق ہے، جس کا تحفظ قانون کے مطابق یقینی بنایا جانا چاہیے، اور اس حق کو کسی بھی غیر قانونی یا بدنیتی پر مبنی لین دین کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
یہ فیصلہ حق مہر سے متعلق مقدمات میں ایک اہم قانونی نظیر قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں ایسے معاملات کے فیصلوں میں رہنمائی ملنے کی توقع ہے۔

