کوپن ہیگن/تہران: ڈنمارک نے مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال میں بہتری کے بعد ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع اپنے سفارت خانے کو دوبارہ فعال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈنمارک کی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران میں حالات میں بہتری اور سیکیورٹی خطرات میں کمی کے باعث تہران میں سفارتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔
وزارت خارجہ کے مطابق ڈنمارک کے سفیر 19 جون سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور سفارت خانے کا عملہ بھی معمول کی سرگرمیوں کی جانب واپس آ چکا ہے۔
یاد رہے کہ ڈنمارک نے 10 مارچ 2026 کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر احتیاطی اقدام کے طور پر اپنا سفارت خانہ عارضی طور پر بند کر دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈنمارک کی جانب سے سفارتی مشن کی بحالی اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں حالات نسبتاً مستحکم ہو رہے ہیں اور ایران کے ساتھ سفارتی روابط کو معمول پر لانے کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات، جنگ بندی کی پیش رفت اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں کمی نے بین الاقوامی برادری کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔ اسی تناظر میں متعدد ممالک ایران میں اپنے سفارتی مشنز کی سرگرمیوں کو بحال کرنے یا وسعت دینے پر غور کر رہے ہیں۔
سفارتی ماہرین کے مطابق یورپی ممالک کی جانب سے سفارتی نمائندگی کی بحالی خطے میں استحکام اور سیاسی رابطوں کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
