Table of Contents
اسلام آباد: حکومتِ جاپان اور یونیسیف نے پاکستان میں بچوں کے حقوق کے تحفظ، صحت، تعلیم اور فلاح و بہبود کے لیے اپنی دہائیوں پر محیط شراکت داری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

میڈیا کے مطابق جاپان، یونیسیف کے طویل ترین اور بڑے عالمی شراکت داروں میں شامل ہے۔ پاکستان میں دونوں ادارے صحت، غذائیت، تعلیم، صاف پانی، صفائی، حفظانِ صحت اور بچوں کے تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں لاکھوں بچوں اور خاندانوں کی معاونت کر رہے ہیں۔
دونوں شراکت داروں نے قدرتی آفات اور ہنگامی حالات کے دوران بھی مل کر امدادی سرگرمیاں انجام دی ہیں، جبکہ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی قومی مہم اور بچوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے پائیدار نظام کی مضبوطی میں بھی مسلسل تعاون جاری رکھا ہوا ہے۔
2022 کے سیلاب کے بعد امدادی تعاون
بیان کے مطابق 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد جاپان نے سندھ اور بلوچستان کی متاثرہ آبادی کے لیے یونیسیف کے ہنگامی امدادی پروگرام کی حمایت میں 6.48 ملین امریکی ڈالر فراہم کیے۔
اس امداد کے ذریعے متاثرہ بچوں اور خاندانوں کو صاف پانی، صفائی و حفظانِ صحت، بنیادی طبی سہولیات اور غذائی معاونت فراہم کی گئی، جبکہ متاثرہ کمیونٹیز کی بحالی اور مستقبل کے ممکنہ بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے پر بھی توجہ دی گئی۔
ہر بچے کے لیے بہتر مستقبل ہمارا مشترکہ مقصد ہے، جاپانی سفیر
پاکستان میں جاپان کے سفیر اکاماتسو شوچی نے کہا کہ جاپان اور یونیسیف کی شراکت داری کئی دہائیوں پر محیط ہے اور اس کی بنیاد اس یقین پر قائم ہے کہ ہر بچے کو، خواہ وہ کسی بھی پس منظر یا حالات میں پیدا ہوا ہو، صحت مند، محفوظ اور باوقار زندگی گزارنے کا مساوی حق حاصل ہے۔
انہوں نے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے جاپان کے مسلسل تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جاپان نے حفاظتی ٹیکہ جات کی مہمات کے ذریعے ملک کے دور دراز علاقوں میں لاکھوں بچوں تک رسائی ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
جاپان کی معاونت سے لاکھوں بچوں کی زندگیوں میں بہتری آئی، یونیسیف
پاکستان میں یونیسیف کی قائم مقام نمائندہ شرمیلا رسول نے کہا کہ جاپان کئی دہائیوں سے پاکستان کے بچوں کے لیے قابلِ اعتماد شراکت دار رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جاپان کی مسلسل معاونت نے ہنگامی امداد، بنیادی خدمات کی مضبوطی اور طویل المدتی ترقی کے منصوبوں کے ذریعے لاکھوں بچوں کو بہتر صحت، تعلیم اور محفوظ مستقبل فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
شرمیلا رسول کے مطابق دونوں ادارے نہ صرف موجودہ ضروریات پوری کر رہے ہیں بلکہ ایسے مضبوط اور پائیدار نظام بھی تشکیل دے رہے ہیں جو مستقبل میں بھی پاکستان کے بچوں اور خاندانوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔

