ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے سلسلے میں سوئٹزرلینڈ جانے والی ٹیموں کا پروگرام حتمی ہے اور آئندہ مرحلے میں مفاہمتی یادداشت کے متن کو آخری شکل دی جائے گی۔
اپنے بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ فریقین مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر چکے ہیں اور اب اس کے متن کو مکمل اور حتمی شکل دینے کا عمل باقی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ اس معاہدے کا ایک اہم مقصد ہے اور یادداشت کے پہلے پیراگراف میں لبنان کا تین مرتبہ ذکر کیا گیا ہے، جو اس مسئلے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
ادھر سوئس حکومت نے تصدیق کی ہے کہ ابتدائی مذاکرات جمعہ کے روز برگن اسٹاک میں ہوں گے، جن میں پاکستان، قطر اور دیگر متعلقہ ممالک بھی شریک ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد آئندہ جامع معاہدے کے لیے بنیادی نکات پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے کی صورتحال پر واپس نہیں جائے گی اور ایران امریکا کے ساتھ ایک مضبوط پوزیشن سے مذاکرات کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ میں ایران کی کامیابی نے موجودہ سفارتی عمل کی بنیاد فراہم کی ہے اور اب دوست اور دشمن دونوں ایران کی طاقت کا اعتراف کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور ایران ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے۔
باقر قالیباف نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران کی "انگلی ٹریگر پر رہے گی”، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران مذاکرات کے ساتھ ساتھ دفاعی تیاریوں کو بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور امریکا و ایران کے درمیان ایک جامع معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، تاہم فریقین کے درمیان اعتماد کی کمی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
