واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ انہوں نے اپنا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق 59 سالہ سوزی وائلز وائٹ ہاؤس کے اندرونی معاملات، کابینہ میں مبینہ اختلافات اور صدر ٹرمپ کے طرزِ عمل سے نالاں ہیں، جس کے باعث ان کے عہدے سے الگ ہونے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
سوزی وائلز کو ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اور بااثر سیاسی مشیروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ 2015 سے ٹرمپ کی انتخابی مہم کا حصہ رہی ہیں اور 2024 کے صدارتی انتخابی معرکے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
وائٹ ہاؤس میں چیف آف اسٹاف کا منصب امریکی انتظامیہ کے اہم ترین عہدوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں عہدے دار صدر کے شیڈول، پالیسی رابطہ کاری اور انتظامی امور کی نگرانی کرتا ہے۔
تاحال وائٹ ہاؤس یا سوزی وائلز کی جانب سے ان اطلاعات کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی حلقوں میں ان خبروں کو امریکی انتظامیہ کے اندر ممکنہ تبدیلیوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
اگر سوزی وائلز واقعی عہدہ چھوڑتی ہیں تو یہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اہم انتظامی اور سیاسی پیش رفت سمجھی جائے گی، کیونکہ وہ صدر کے قابلِ اعتماد ترین مشیروں میں شامل رہی ہیں۔
