لاہور — اداکارہ مومنہ اقبال کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور بلیک میل کرنے کے معاملے میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ اداکارہ کی جانب سے فراہم کردہ شواہد اور شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا۔ مدعی کے مطابق ملزم اور اس کے بعض ساتھیوں نے مبینہ طور پر بلیک میلنگ، دھمکیوں اور سائبر ہراسگی کا سلسلہ جاری رکھا۔
مقدمے کے متن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزم نے شادی کے لیے دباؤ ڈالتے ہوئے دھمکی دی کہ انکار کی صورت میں نجی مواد اور ڈیٹا لیک کر دیا جائے گا۔ شکایت کنندہ کی جانب سے متعلقہ ویڈیوز اور دیگر ڈیجیٹل شواہد نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو فراہم کیے گئے ہیں۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ موصول ہونے والی ویڈیوز اور موبائل فونز کو ڈیجیٹل شواہد کے طور پر تحویل میں لے کر فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ مزید یہ بھی درج ہے کہ مبینہ طور پر ملزم کے فون نمبر سے دھمکی آمیز پیغامات ارسال کیے گئے۔
تحقیقات کے دوران یہ الزام بھی سامنے آیا کہ اداکارہ کی جانب سے شادی سے انکار کے بعد انہیں مختلف ذرائع سے بلیک میل کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق شکایت کنندہ کے موبائل فون سے مبینہ طور پر ایسی ویڈیوز بھی برآمد ہوئیں جو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔
مقدمے میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم، اس کی اہلیہ اور بعض دیگر افراد نے سائبر ہراسگی، غیر قانونی نگرانی اور دھمکیوں کے ذریعے اداکارہ اور ان کے اہل خانہ کو دباؤ میں رکھنے کی کوشش کی۔ تفتیشی حکام کے مطابق یہ بھی الزام ہے کہ موبائل فون حکام کے حوالے کرنے سے قبل اس میں موجود ڈیٹا اور ایپلیکیشنز حذف کر دی گئی تھیں۔
یاد رہے کہ چند روز قبل اداکارہ مومنہ اقبال نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں باقاعدہ شکایت جمع کرائی تھی، جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
مقدمہ درج ہونے کے بعد متعلقہ ادارے شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں جبکہ حتمی قانونی ذمہ داری کا تعین عدالت اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔
