Table of Contents
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا ہے۔
انہوں نے اپنی حکومت کی پالیسیوں کا دفاع کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا پہلے سے زیادہ طاقتور ہو چکا ہے۔
انہوں نے امریکی معیشت، امیگریشن پالیسی اور خارجہ پالیسی پر بھی بات کی۔
ٹرمپ کا امریکی پالیسیوں کا دفاع
ٹرمپ نے کہا کہ امریکی معیشت ترقی کر رہی ہے۔
ان کے مطابق امریکا میں استحکام بھی بڑھا ہے۔ انہوں نے اس کا کریڈٹ اپنی حکومت کی پالیسیوں کو دیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کی حکومت نے ملک کے مفاد میں کئی مسائل حل کیے ہیں۔
امیگریشن پالیسی پر مؤقف
امریکی صدر نے اپنی امیگریشن پالیسی کا بھی دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا میں اب صرف وہی شخص داخل ہو سکتا ہے جسے داخلے کی اجازت ہو۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس پالیسی سے امریکا میں جرائم میں کمی آئی ہے۔
یہ بیان ان کی جانب سے اپنی انتظامیہ کی سرحدی پالیسی کے دفاع کے طور پر سامنے آیا۔
ایران کے خلاف سخت مؤقف
ٹرمپ نے ایران کے بارے میں سخت مؤقف اختیار کیا۔
انہوں نے ایران کو خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دیا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی۔ ان کے مطابق ایران نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ اب امریکا کو ایران کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ کرنا ہوگا۔
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے جنرل اسمبلی میں ایران کے خلاف جنگ کو جوہری خطرے کی روک تھام سے جوڑا۔
ایران کے بعد کیوبا کا ذکر
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کیوبا کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے مغربی نصف کرۂ ارض میں امریکی مفادات کے تحفظ پر زور دیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکا غیر معمولی فوجی طاقت استعمال کرسکتا ہے۔
انہوں نے کیوبا کی حکومت پر امریکا میں بعض سیاسی گروہوں سے روابط رکھنے کا الزام بھی عائد کیا۔
وینزویلا کے تیل پر امریکی پالیسی
ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل سے متعلق امریکی پالیسی کا بھی دفاع کیا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا کو وینزویلا کے 65 ارب بیرل سے زیادہ ثابت شدہ تیل کے ذخائر پر اکثریتی کنٹرول حاصل ہوا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کے تیل کی اضافی پیداوار امریکی ریفائنریوں میں پروسیس ہوگی۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اس منصوبے کا مقصد امریکی توانائی کی فراہمی بڑھانا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے ایندھن کی قیمتوں میں کمی میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
ٹرمپ کا امن سے متعلق دعویٰ
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں امن کے لیے اپنی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے جنرل اسمبلی میں اپنی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی اور امن کوششوں کا دفاع کیا۔
