Table of Contents
سانتیاگو: چلی کی سابق صدر مشیل بیچلیٹ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے لیے اپنی امیدواری واپس لے لی ہے۔
انہوں نے ہفتے کے روز اس فیصلے کا اعلان کیا۔
بیچلیٹ نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں کہا کہ انہوں نے اپنی امیدواری آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
چلی کی سابق صدر اقوام متحدہ کی سربراہی کے لیے امیدوار تھیں۔ وہ چلی کی پہلی خاتون صدر بھی رہ چکی ہیں۔
بیچلیٹ نے کیا کہا؟
بیچلیٹ نے کہا کہ کچھ لوگوں کے خیال میں ان کی مطلوبہ نمائندگی کے لیے یہ وقت مناسب نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اس بڑے چیلنج کو قبول کرنے پر کوئی پچھتاوا نہیں۔
سابق صدر نے کہا کہ ان کی امیدواری نے ایک اہم بحث کو آگے بڑھایا ہے۔
ان کے مطابق اگلی سیکرٹری جنرل ایک لاطینی امریکی خاتون ہونی چاہیے۔
اقوام متحدہ کے اسٹرا پول میں صورتحال
بیچلیٹ کا فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تیسرے غیر رسمی اسٹرا پول کے بعد سامنے آیا۔
18 ستمبر کو ہونے والے اس عمل میں بیچلیٹ کو صرف ایک حوصلہ افزا ووٹ ملا۔
انہیں 11 ووٹوں میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ تین ارکان نے کوئی رائے ظاہر نہیں کی۔
اس سے قبل جولائی کے اسٹرا پول میں انہیں چھ حوصلہ افزا ووٹ ملے تھے۔
اگست میں یہ تعداد کم ہو کر دو رہ گئی تھی۔
چلی حکومت نے مارچ میں حمایت واپس لی تھی
چلی کی حکومت نے مارچ میں بیچلیٹ کی امیدواری سے اپنی حمایت واپس لے لی تھی۔
حکومت نے اس وقت کہا تھا کہ انتخابی عمل میں لاطینی امریکی امیدواروں کی تعداد اور اہم فریقوں کے اختلافات نے کامیابی کے امکانات کو متاثر کیا ہے۔
اس کے باوجود بیچلیٹ نے اپنی امیدواری جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
چلی حکومت نے اس دوران کسی دوسرے امیدوار کی حمایت نہیں کی۔
حکومت نے کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ میں اصلاحات کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
اقوام متحدہ کی سربراہی کی دوڑ
بیچلیٹ کے دستبردار ہونے کے بعد اقوام متحدہ کے نئے سربراہ کے لیے کئی امیدوار میدان میں موجود ہیں۔
18 ستمبر کے تیسرے اسٹرا پول میں کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر ربیکا گرین اسپین کو نو حوصلہ افزا ووٹ ملے۔
گیانا کی کیرولین روڈریگز برکیٹ آٹھ حوصلہ افزا ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں۔
یہ اسٹرا پول حتمی انتخاب نہیں ہے۔ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی حمایت اس عمل میں اہم ہے۔
اس کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نئے سیکرٹری جنرل کی توثیق کرتی ہے۔
خاتون سیکرٹری جنرل کی بحث
اقوام متحدہ کے قیام کے بعد سے اب تک کوئی خاتون سیکرٹری جنرل نہیں بنی۔
لاطینی امریکا سے صرف پیرو کے زیویئر پیریز ڈی کوئلر اس عہدے پر فائز رہے ہیں۔
انہوں نے 1982 سے 1991 تک اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی ذمہ داریاں انجام دیں۔
موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کی دوسری مدت 31 دسمبر 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔
اس کے بعد اقوام متحدہ کو نیا سیکرٹری جنرل منتخب کرنا ہوگا۔
