Table of Contents
پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے میجر جنرل فیصل نصیر کی نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر کے طور پر تقرری کو بروقت فیصلہ قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان اس وقت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے۔
ان کے مطابق ایسے حالات میں میجر جنرل فیصل نصیر کی نیکٹا میں تقرری اہم اور قابلِ تحسین ہے۔
فیصل نصیر کو تجربہ کار افسر قرار دیا
طاہر اشرفی نے کہا کہ میجر جنرل فیصل نصیر ایک قابل اور تجربہ کار فوجی افسر ہیں۔
ان کے مطابق انہیں قومی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے حساس معاملات کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیصل نصیر اپنی ذمہ داریاں قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے ادا کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف مربوط حکمت عملی ضروری
طاہر اشرفی نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے صرف دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کافی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف بھی کارروائی ضروری ہے۔
ان کے مطابق دہشت گرد تنظیموں کے تنظیمی ڈھانچوں اور انتہا پسندانہ نظریات کا مقابلہ بھی کرنا ہوگا۔
انہوں نے اس مقصد کے لیے مربوط قومی حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔
نیکٹا کو مزید فعال بنانے پر زور
پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ نیکٹا کی فعالیت انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے ریاستی اداروں کے درمیان مؤثر انٹیلی جنس شیئرنگ کو بھی ضروری قرار دیا۔
ان کے مطابق نیشنل ایکشن پلان پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
اداروں کے درمیان تعاون مضبوط ہونے کی توقع
طاہر اشرفی نے توقع ظاہر کی کہ میجر جنرل فیصل نصیر کی قیادت میں نیکٹا مزید فعال اور مؤثر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس سے متعلقہ ریاستی اداروں کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔
طاہر اشرفی نے امید ظاہر کی کہ یہ تقرری پاکستان سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے میں اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔
انہوں نے نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد کے لیے بھی نیکٹا کے کردار کو اہم قرار دیا۔
