Table of Contents
اہور: لاہور ہائیکورٹ نے کم عمری کی شادی سے متعلق اہم فیصلہ جاری کردیا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ پنجاب میں لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال ہے۔
یہ عمر پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 کے تحت مقرر کی گئی ہے۔
کم عمر دلہن کے ساتھ رہنا چائلڈ ابیوز قرار
عدالت کے مطابق 18 سال سے کم عمر لڑکی سے شادی کے بعد اس کے ساتھ رہنا قانوناً چائلڈ ابیوز شمار ہوگا۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ کم عمری کی شادی میں دلہن کی مبینہ رضامندی کو قانونی تحفظ حاصل نہیں ہوگا۔
18 سال سے کم عمر لڑکی کو چائلڈ ابیوز پر اکسانے یا مجبور کرنے پر سخت سزا مقرر کی گئی ہے۔
ایسے جرم میں 5 سے 7 سال تک قید ہو سکتی ہے۔
کم عمری کی شادی میں ملوث افراد پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
لڑکی کی عمر 15 سال 2 ماہ تھی
عدالت کے سامنے موجود ریکارڈ کے مطابق شادی کے وقت لڑکی کی عمر صرف 15 سال اور 2 ماہ تھی۔
نادرا کے ریکارڈ سے بھی لڑکی کی عمر کی تصدیق ہوئی۔
لاہور ہائیکورٹ نے ایس ایچ او قصور کو چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس آف پیس کا فیصلہ کالعدم
عدالت نے جسٹس آف پیس قصور کی جانب سے مقدمہ درج نہ کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت نے کم عمر دلہن کو شوہر کے ساتھ بھیجنے کی استدعا بھی مسترد کردی۔
مزید برآں، عدالت نے لڑکی کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو منتقل کرنے کا حکم دیا۔
