Table of Contents
اشیویل: امریکی شہر اشیویل میں جی 20 وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے سربراہان کا دو روزہ اجلاس شروع ہوگیا۔
اجلاس میں عالمی معیشت سے متعلق اہم معاملات زیر بحث ہیں۔
عالمی معاشی نمو اور بڑھتے ہوئے قرضے بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔
تجارتی عدم توازن اور توانائی کا بحران بھی زیر غور ہے۔
ایران پر اقتصادی دباؤ کے معاملے پر بھی اہم گفتگو جاری ہے۔
امریکا کا معاشی ترقی پر زور
اجلاس کے افتتاحی خطاب میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے معاشی نمو پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت کئی برس سے اپنی ممکنہ رفتار سے کم ترقی کر رہی ہے۔
بیسنٹ کے مطابق معاشی نمو میں اضافہ قرضوں کے بوجھ سے نکلنے میں مدد دے سکتا ہے۔
انہوں نے عالمی قرضوں میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
امریکی وزیر خزانہ کے مطابق عالمی مالیاتی بحران اور کورونا وبا کے بعد قرضوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ان کے مطابق عالمی قرضہ رواں سال تقریباً 353 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
سرمایہ کاری کے مواقع بڑھنے کا دعویٰ
فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش نے بھی عالمی معیشت پر بات کی۔
انہوں نے کہا کہ دنیا سرمایہ کاری کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ ہورہا ہے۔
اس صورتحال سے عالمی بچت کے سابقہ رجحانات بھی تبدیل ہوسکتے ہیں۔
چین کے ساتھ تجارتی تعلقات پر امریکی مؤقف
امریکی وزیر خزانہ نے چین کے ساتھ تجارتی عدم توازن پر بھی سخت مؤقف اختیار کیا۔
انہوں نے جی 20 ممالک سے چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کا دوبارہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔
بیسنٹ نے ضرورت پڑنے پر اضافی تجارتی رکاوٹوں پر غور کرنے کی تجویز بھی دی۔
ان کے مطابق چین کو اپنی معیشت میں اندرونی کھپت کا حصہ بڑھانا چاہیے۔
امریکی وزیر خزانہ نے چین کے بڑے تجارتی سرپلس کو عالمی معیشت کے لیے مسئلہ قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ چین کا تجارتی سرپلس تقریباً 1.2 ٹریلین ڈالر ہے۔
بیسنٹ نے صنعتی سبسڈیز اور کمزور داخلی طلب پر بھی بات کرنے پر زور دیا۔
ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی کوشش
امریکا جی 20 اجلاس میں ایران کے خلاف مزید اقتصادی اقدامات کے لیے حمایت حاصل کرنا چاہتا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ نے ایران پر مزید پابندیوں کی حمایت کی بات کی۔
ایرانی بینکوں کے خلاف اقدامات بھی زیر غور ہیں۔
امریکا ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے مزید الگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
بیسنٹ نے ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ بڑھانے کا عندیہ دیا۔
تاہم انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی تیل کی قیمتوں کو بھی اہم قرار دیا۔
عالمی معیشت کو کئی چیلنجز کا سامنا
جی 20 اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب عالمی معیشت کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔
بڑھتے ہوئے قرضے اور تجارتی عدم توازن اہم مسائل بن چکے ہیں۔
توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی عالمی معیشت کو متاثر کر رہا ہے۔
ایران کے خلاف ممکنہ مزید پابندیوں سے عالمی توانائی مارکیٹ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
جی 20 ممالک اجلاس میں ان مسائل کے ممکنہ حل پر تبادلہ خیال جاری رکھے ہوئے ہیں۔
