Table of Contents
اسٹاک ہوم: سویڈن نے فرانس کی کمپنی نیول گروپ کے ساتھ چار فریگیٹس کے آرڈر پر دستخط کردیے ہیں۔
معاہدے کی تقریب اسٹاک ہوم میں ہوئی۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور سویڈش وزیراعظم الف کرسٹرسن بھی تقریب میں شریک تھے۔
سویڈن نے روس کے بڑھتے خطرے کے پیش نظر اپنی دفاعی صلاحیت بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
نیٹو میں شمولیت کے بعد دفاعی تیاری
سویڈن نیٹو کا تازہ ترین رکن ہے۔ ملک نے 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد اپنی دفاعی پالیسی تبدیل کی۔
اس حملے کے بعد سویڈن نے اپنی طویل عرصے سے جاری غیر جانبداری کی پالیسی ترک کردی۔
اب اسٹاک ہوم اپنی مسلح افواج اور دفاعی صلاحیت کو تیزی سے مضبوط بنا رہا ہے۔
چار نئے فریگیٹس کا آرڈر
سویڈن نے چار نئے فریگیٹس خریدنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق معاہدے کی مالیت تقریباً 4 ارب ڈالر ہے۔
ان جنگی جہازوں سے سویڈش بحریہ کی دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
چار فریگیٹس میں سے پہلا جہاز 2030 میں فراہم کیے جانے کی توقع ہے۔
یہ جہاز سویڈش بحریہ کا اب تک کا سب سے بڑا بحری جہاز ہوگا۔
میکرون کا یورپی دفاع پر زور
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے معاہدے کو یورپی دفاع کے لیے اہم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ فرانس اور سویڈن یورپی خودمختاری کو مشترکہ طور پر مضبوط کر رہے ہیں۔
میکرون کے مطابق سویڈن کا یہ دفاعی معاہدہ یورپی دفاعی صنعت کو مضبوط کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک کو اپنی سلامتی کی زیادہ ذمہ داری خود اٹھانا ہوگی۔
میکرون نے نیٹو کے یورپی ستون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔
یورپ میں دفاعی اخراجات میں اضافہ
روس اور یوکرین کی جنگ کے بعد یورپی ممالک نے دفاعی اخراجات بڑھا دیے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یورپی اتحادیوں پر دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ بھی بڑھا ہے۔
اس کے ساتھ امریکی سکیورٹی تعاون پر یورپی ممالک کے خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
اسی وجہ سے کئی یورپی ممالک اپنی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے منصوبوں پر تیزی سے عمل کر رہے ہیں۔
سویڈن کی فضائی دفاعی صلاحیت بھی بڑھے گی
سویڈن نے مئی میں ایک بڑے دفاعی معاہدے کا اعلان کیا تھا۔
اس معاہدے کے تحت فرانس سے جدید دفاعی نظام خریدنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
اس نظام سے سویڈن کی فضائی دفاعی صلاحیت میں تین گنا اضافہ ہونے کی توقع ہے۔
نئے فریگیٹس اور دیگر دفاعی منصوبوں کے ذریعے سویڈن اپنی مجموعی فوجی صلاحیت مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے۔
