Table of Contents
استنبول: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اسٹریٹیجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس استنبول میں ہوا۔
اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع نے شرکت کی۔
تینوں ممالک کے اعلیٰ عسکری حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
مشترکہ اعلامیے کے مطابق تینوں ممالک نے خطے میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ کیا۔
فریقین نے مکہ دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔
تینوں ممالک نے بحرانوں کے پرامن حل کی حمایت بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
اعلامیے کے مطابق کشیدگی کم کرنے اور تحمل کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
دفاعی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کا فیصلہ
اجلاس میں مکہ دفاعی معاہدے کے تحت تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
تینوں ممالک نے دفاعی تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے کا فیصلہ کیا۔
اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
اعلامیے کے مطابق ڈیٹرنس کی ساکھ اور مؤثریت بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
سعودی عرب میں سیکریٹریٹ قائم ہوگا
مشترکہ اعلامیے میں سیکریٹریٹ کے قیام کا اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔
سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔
اس کی سربراہی سیکریٹری جنرل کریں گے۔
اعلامیے کے مطابق ابتدائی طور پر سیکریٹری جنرل کا تعلق پاکستان سے ہوگا۔
سیکریٹری جنرل کی مدت تین سال مقرر کی گئی ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے پر تعاون کا نیا مرحلہ
استنبول اجلاس کو مکہ دفاعی معاہدے پر عمل درآمد میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تینوں ممالک نے دفاعی تعاون کو عملی شکل دینے کے لیے ادارہ جاتی نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
سیکریٹریٹ کا قیام اسی عمل کا اہم حصہ ہوگا۔
تینوں ممالک آئندہ بھی امن، سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات جاری رکھیں گے۔
