Table of Contents
تہران: ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں امریکی MQ-9 ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے اس حوالے سے پاسداران انقلاب کا بیان نشر کیا۔
بیان کے مطابق ڈرون کو آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی فضائی دفاع نے مبینہ طور پر ایک نئے دفاعی نظام کا استعمال کیا۔
تاہم امریکی حکام نے فوری طور پر ایرانی دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔
MQ-9 ریپر کیا ہے؟
MQ-9 ریپر امریکی فوج کا جدید مسلح ڈرون ہے۔
یہ ڈرون نگرانی اور انٹیلی جنس کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
اسے بعض فوجی کارروائیوں میں حملوں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
ایرانی دعوے کے مطابق ڈرون کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی
آبنائے ہرمز خطے کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل ہے۔
یہ خلیج فارس اور خلیج عمان کو ملاتی ہے۔
دنیا کی توانائی کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔
اس لیے آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی کشیدگی کے عالمی اثرات ہوسکتے ہیں۔
ایران کے امریکی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ
ایران نے اس سے قبل اردن میں موجود دو امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔
ایران نے متحدہ عرب امارات میں ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا۔
تہران نے ان کارروائیوں کو امریکی حملوں کا جواب قرار دیا ہے۔
امریکا کی جوابی کارروائی کا عندیہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حملوں پر جوابی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایرانی حملوں کا جواب دے گا۔
اس سے خطے میں مزید فوجی کشیدگی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کو بھی حساس بنا دیا ہے۔
عالمی توانائی کی سپلائی پر اثرات
آبنائے ہرمز سے تیل اور گیس کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔
اس راستے میں طویل رکاوٹ عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر کرسکتی ہے۔
اس صورتحال کے باعث تیل اور گیس کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹیں صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
