Table of Contents
اسلام آباد: پارلیمنٹ ہاؤس میں جوائنٹ اپوزیشن کا پہلا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان اور پارلیمانی نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا۔ حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بھی زیر بحث آئی۔
اپوزیشن رہنماؤں نے پارلیمان کے اندر متحد رہنے پر اتفاق کیا۔ پارلیمان کے باہر بھی مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
آئین اور عدلیہ کی بالادستی پر اتفاق
اجلاس میں اپوزیشن رہنماؤں نے اہم امور پر مشترکہ مؤقف اپنایا۔ ان میں آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی شامل ہیں۔
اپوزیشن نے 18ویں ترمیم کے تحفظ پر بھی زور دیا۔ رہنماؤں نے عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد کا اعلان کیا۔
محمود اچکزئی کا مؤقف
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے اجلاس سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپوزیشن کے اتحاد کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
محمود اچکزئی نے کہا کہ اپوزیشن کا متحد ہونا ایک نیا آغاز ہے۔ اس اتحاد سے آئین کی بحالی میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔ عدلیہ کی آزادی کو بھی ضروری قرار دیا۔
مولانا فضل الرحمان کی تشویش
مولانا فضل الرحمان نے ملکی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے سکیورٹی اور معاشی بحران پر بھی بات کی۔
انہوں نے کہا کہ ملک صوبوں کی تقسیم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایسی کوششوں سے قومی سطح پر بداعتمادی بڑھے گی۔
مولانا فضل الرحمان نے 18ویں ترمیم کے تحفظ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ترمیم میں تبدیلی ریاست کے لیے نقصان دہ ہوگی۔
انہوں نے ملک میں امن و امان کی صورتحال پر بھی تنقید کی۔ ان کے مطابق عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کشمیر کی صورتحال کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی قیدیوں کی رہائی سے ماحول بہتر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ملک میں پرامن سیاسی ماحول کی ضرورت پر زور دیا۔
علامہ ناصر عباس کی تنقید
علامہ ناصر عباس نے قانون کی حکمرانی پر بات کی۔ انہوں نے انسانی حقوق کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے چادر اور چار دیواری کے تقدس کی بات کی۔ ان کے مطابق اس معاملے میں سنگین شکایات سامنے آ رہی ہیں۔
ناصر عباس نے عمران خان کی صحت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد نہ ہونے پر تنقید کی۔
انہوں نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق عدالتی احکامات پر عمل ہونا چاہیے۔
ملک میں امن و امان کی صورتحال
علامہ ناصر عباس نے ملک میں بڑھتی بدامنی پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے شہریوں کے تحفظ کو اہم مسئلہ قرار دیا۔
انہوں نے مختلف واقعات کا حوالہ بھی دیا۔ ان کے مطابق عوام کی جان و مال محفوظ نہیں رہی۔
انہوں نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی صورتحال کا بھی ذکر کیا۔ ناصر عباس نے انسانی حقوق کے تحفظ پر زور دیا۔
اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ مؤقف
بیرسٹر گوہر نے اجلاس کے فیصلوں کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں متحد رہیں گی۔
ان کے مطابق اپوزیشن پارلیمنٹ میں مشترکہ مؤقف اپنائے گی۔ امن و امان کے معاملے پر بھی اتحاد برقرار رہے گا۔
مہنگائی کے مسئلے پر بھی مشترکہ مؤقف اپنایا جائے گا۔ بیرونی ممالک سے تعلقات پر بھی اپوزیشن ایک موقف رکھے گی۔
بیرسٹر گوہر نے صوبوں کے معاملے پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن میں آئینی ترمیم نہیں کی جا سکتی۔
پی ٹی آئی کی مولانا فضل الرحمان کو حمایت
اجلاس میں اپوزیشن اتحاد کو آگے بڑھانے پر بھی بات ہوئی۔ پی ٹی آئی نے مولانا فضل الرحمان کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو بنیادی نکات قرار دیا گیا۔
