Table of Contents
اوسلو: ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
ناروے کے شاہی محل نے جمعہ کو ان کے انتقال کی تصدیق کردی۔
شاہی محل کے مطابق بادشاہ ہیرالڈ نے اوسلو یونیورسٹی ہسپتال میں آخری سانس لی۔ ان کا انتقال مقامی وقت کے مطابق جمعہ کی صبح 6 بج کر 35 منٹ پر ہوا۔
بادشاہ ہیرالڈ طویل عرصے سے صحت کے مسائل کا سامنا کر رہے تھے۔ حالیہ دنوں میں ان کی طبیعت مزید خراب ہوگئی تھی۔
1991 میں ناروے کے بادشاہ بنے
ہیرالڈ پنجم نے 17 جنوری 1991 کو اپنے والد بادشاہ اولاف پنجم کے انتقال کے بعد تخت سنبھالا۔
وہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ناروے کے سربراہِ مملکت رہے۔ ان کا دور ناروے کی جدید شاہی تاریخ میں اہم سمجھا جاتا ہے۔
بادشاہ ہیرالڈ نے اپنی طویل حکمرانی کے دوران شاہی ادارے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر توجہ دی۔
وہ عوام کے ساتھ قریبی تعلق کے باعث بھی مقبول رہے۔ ان کے دور میں شاہی خاندان نے معاشرے کے بدلتے ہوئے رجحانات کے ساتھ خود کو جوڑنے کی کوشش کی۔
صحت کے مسائل کے باوجود تخت سے دستبردار نہیں ہوئے
بادشاہ ہیرالڈ کو گزشتہ برسوں کے دوران کئی مرتبہ صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
ان بیماریوں کے باعث وہ بعض اوقات شاہی ذمہ داریاں ادا نہیں کر سکے۔ ایسے مواقع پر ولی عہد شہزادہ ہاکون نے قائم مقام سربراہِ مملکت کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
اس کے باوجود بادشاہ ہیرالڈ نے تخت سے دستبردار ہونے کے امکان کو مسترد کیا تھا۔
شہزادہ ہاکون جانشین ہوں گے
بادشاہ ہیرالڈ کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے ولی عہد شہزادہ ہاکون ناروے کے نئے بادشاہ بنیں گے۔
شہزادہ ہاکون اپنے والد کی علالت کے دوران کئی مرتبہ قائم مقام سربراہِ مملکت کی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔
ان کی نئی ذمہ داریوں کے ساتھ ناروے کی بادشاہت ایک نئے دور میں داخل ہوگی۔
ناروے میں ایک اہم شاہی دور کا اختتام
بادشاہ ہیرالڈ کی وفات ناروے کی جدید تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔
انہوں نے تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ملک کی نمائندگی کی۔ وہ قومی بحرانوں اور اہم مواقع پر عوام کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔
رائٹرز کے مطابق ہیرالڈ کو ایک اصلاح پسند اور مقبول بادشاہ کے طور پر یاد کیا جائے گا۔ ان کی حکمرانی میں شاہی ادارے نے جدید معاشرتی اقدار کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کی۔
