Table of Contents
جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے غیر معمولی اجلاس میں موریطانیہ کے اسماعیل ولد شیخ احمد کو نیا سیکرٹری جنرل مقرر کردیا گیا۔
او آئی سی کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ سطح کے وفود نے اجلاس میں شرکت کی۔ شرکا نے اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
اجلاس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ اس دوران فلسطینی عوام کے خلاف جاری کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
پاکستان کی نمائندگی
غیر معمولی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی مستقل مندوب سید محمد فواد شیر نے کی۔ انہوں نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے اجلاس میں شرکت کی۔
فواد شیر نے اپنے خطاب میں کشمیر کے معاملے پر او آئی سی کے مؤقف کو سراہا۔ انہوں نے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے لیے تنظیم کی مسلسل حمایت کی تعریف بھی کی۔
کشمیر پر او آئی سی سے مزید کردار کا مطالبہ
پاکستانی مستقل مندوب نے او آئی سی پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ پاکستان اس حق کی حمایت جاری رکھے گا۔
فواد شیر نے مسئلہ کشمیر کو اسلامی دنیا کے اہم مسائل میں شمار کیا۔ انہوں نے اس معاملے پر عالمی سطح پر مؤثر سفارتی کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
فلسطین پر جامع قرارداد منظور
اجلاس میں فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کی گئی۔ وزرائے خارجہ نے اس حوالے سے ایک جامع قرارداد بھی منظور کی۔
قرارداد میں فلسطینی علاقوں میں زمینوں پر قبضے کی مذمت کی گئی۔ اسرائیلی بستیوں کی توسیع پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی۔
قرارداد میں فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے تشدد کی بھی مذمت کی گئی۔ اس کے علاوہ الحاق اور جبری نقل مکانی کی پالیسیوں کو بھی مسترد کیا گیا۔
اسرائیل سے پالیسی تبدیل کرنے کا مطالبہ
او آئی سی کی قرارداد میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف غیر قانونی اقدامات روکے۔
رکن ممالک سے بھی مؤثر قانونی اور سفارتی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد میں اسرائیل کے توسیع پسندانہ ایجنڈے کے خلاف مشترکہ کوششوں پر زور دیا گیا۔
او آئی سی نے فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی برادری کے کردار کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
نئے سیکرٹری جنرل اسماعیل ولد شیخ احمد کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسلامی دنیا فلسطین سمیت کئی اہم علاقائی بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کی قیادت میں او آئی سی کو ان معاملات پر مشترکہ سفارتی کوششیں آگے بڑھانے کا چیلنج درپیش ہوگا۔
