Table of Contents
دمشق: اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ رومن گوفمین نے شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی سے فون پر گفتگو کی۔
رائٹرز کے مطابق دونوں کے درمیان 14 اگست کو رابطہ ہوا تھا۔
تین باخبر ذرائع نے فون کال کی تصدیق کی ہے۔
ذرائع کے مطابق گفتگو میں شام میں ترکی کی فوجی موجودگی زیرِ بحث آئی۔
یہ رابطہ اسرائیل کی جانب سے شام کے ابو الدوہر ایئربیس پر حملے سے چند روز پہلے ہوا۔
ترکی کی فوجی سرگرمیاں گفتگو کا اہم موضوع
ذرائع کے مطابق کال میں ترکی کی شام میں فوجی سرگرمیوں پر بات ہوئی۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ اسرائیل نے ترکی کی فوجی موجودگی سے متعلق سوالات اٹھائے۔
ہتھیاروں کی فراہمی اور ڈرونز کی منتقلی پر بھی بات ہوئی۔
ایک سینئر ذریعے کے مطابق گوفمین نے ترکی کی جانب سے شامی فوج کو ہتھیار دینے سے متعلق سوالات کیے۔
تیسرے ذریعے نے بھی گفتگو میں ترک فوجی موجودگی زیرِ بحث آنے کی تصدیق کی۔
اسرائیل نے شام میں فضائی حملہ کیا
اس رابطے کے چند دن بعد اسرائیل نے شام کے ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔
اسرائیلی طیاروں نے ابو الدوہر ایئربیس پر حملے کیے۔
شامی ذرائع کے مطابق حملوں میں رن وے اور اسٹوریج تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی حکومت نے حملے کی ذمہ داری پر فوری طور پر تفصیلی مؤقف نہیں دیا۔
نیتن یاہو کا ترکی کو سخت پیغام
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے شام میں ترک فوجی موجودگی پر سخت مؤقف اختیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل شام میں ایسی ترک فوجی تنصیبات برداشت نہیں کرے گا جو اسرائیل کے لیے خطرہ بنیں۔
نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل نے ترکی کو پہلے ہی خبردار کیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی حملہ اسی پیغام کو واضح کرنے کے لیے کیا گیا۔
ترکی نے اسرائیلی الزامات مسترد کردیے
ترک ایوان صدر نے اسرائیل کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔
ترکی نے شام میں اپنی فوجی پوزیشن سے متعلق اسرائیلی مؤقف کو ناقابل قبول قرار دیا۔
انقرہ نے اسرائیل پر شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
ترکی کے مطابق اسرائیل اپنے غیر قانونی فضائی حملوں کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
انقرہ نے کہا کہ وہ شام میں امن اور استحکام کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔
ترکی شام کا اہم اتحادی بن چکا ہے
بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ترکی شام کی نئی انتظامیہ کا اہم اتحادی بن گیا ہے۔
احمد الشرع کی قیادت میں قائم شامی حکومت کے ساتھ انقرہ کے تعلقات مسلسل مضبوط ہوئے ہیں۔
ترکی نے شام کی خانہ جنگی کے دوران بھی بعض مخالف گروہوں کی حمایت کی تھی۔
اس صورتحال نے اسرائیل میں شام کے اندر ترک اثر و رسوخ سے متعلق تشویش بڑھا دی ہے۔
امریکا کشیدگی کم کرنے کی کوشش میں
امریکی سفیر اور شام و عراق کے خصوصی ایلچی ٹام بیرک نے اسرائیلی حملے پر تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے حملے کو علاقائی استحکام کے لیے غیر ضروری اضافہ قرار دیا۔
بیرک کے مطابق واشنگٹن اسرائیل، ترکی اور شام کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے کام کررہا ہے۔
امریکا تینوں فریقوں کے درمیان رابطے اور معلومات کے تبادلے کا طریقہ کار بھی قائم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
SEO کی تفصیلات
فوکس کلیدی لفظ: موساد سربراہ اور شامی وزیر خارجہ
SEO عنوان: موساد سربراہ اور شامی وزیر خارجہ میں ترک فوجی موجودگی پر گفتگو
Meta Description: رائٹرز کے مطابق اسرائیلی موساد سربراہ رومن گوفمین نے شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی سے ترک فوجی موجودگی پر بات کی۔ رابطہ اسرائیلی حملے سے قبل ہوا۔
Permalink: /mossad-chief-syria-foreign-minister-turkish-military-presence
English Tags: Mossad, Syria, Israel, Turkey, Roman Gofman, Asaad Al Shaibani, Turkish Military Presence, Syria Israel Tensions, Israeli Airstrikes, Abu Dhuhur Airbase, Benjamin Netanyahu, Tom Barrack, Middle East, Syrian Conflict`
