Table of Contents
واشنگٹن: امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکا نے اپنے اہم فضائی دفاعی نظاموں کے میزائلوں کا بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے، جس کے باعث اس کے اسٹریٹجک دفاعی ذخائر میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔
تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائلوں کا بڑا حصہ استعمال
رپورٹ کے مطابق معاملے سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک امریکی فوج اپنے تھاڈ (THAAD) فضائی دفاعی نظام کے تقریباً 80 فیصد میزائل استعمال کر چکی ہے۔
اسی طرح پیٹریاٹ (Patriot) فضائی دفاعی نظام کے تقریباً نصف انٹرسیپٹرز بھی استعمال کیے جا چکے ہیں۔
جنگ سے پہلے امریکا کے پاس کتنے میزائل تھے؟
ایک امریکی تھنک ٹینک کے اعداد و شمار کے مطابق ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے قبل امریکا کے پاس:
- تقریباً 2,200 جدید پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز
- اور 452 تھاڈ میزائل
موجود تھے۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ جنگ کے دوران ان ذخائر کا بڑا حصہ استعمال ہونے کے بعد دفاعی تیاریوں کے حوالے سے نئے سوالات سامنے آ رہے ہیں۔
پینٹاگون کے ذخائر پر عسکری قیادت کی تشویش
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی فوج کے اعلیٰ کمانڈرز پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ پینٹاگون کے اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو امریکا کو اپنے دفاعی ذخائر کی بحالی کے لیے اضافی پیداوار اور نئی خریداری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
خلیجی اتحادی بھی پریشان
رپورٹ کے مطابق امریکا کے خلیجی اتحادی ممالک نے بھی فضائی دفاعی نظاموں میں ممکنہ کمی پر تشویش ظاہر کی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث جدید فضائی دفاعی نظاموں کی دستیابی مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے لیے اہم عنصر بن چکی ہے۔
خطے کی سلامتی پر ممکنہ اثرات
دفاعی ماہرین کے مطابق اگر امریکی فضائی دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں کمی برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف امریکا بلکہ اس کے اتحادی ممالک کی دفاعی حکمت عملی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی بڑے فوجی تصادم کی صورت میں جدید انٹرسیپٹر میزائلوں کی دستیابی ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے۔
