Table of Contents
کیف: یوکرین کے سابق اعلیٰ فوجی کمانڈر اور برطانیہ میں موجود سفیر ویلری زلوزنی نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کا کوئی حقیقی امکان نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق ملک ابھی تک اتحاد کے مطلوبہ فوجی معیارات پر پورا نہیں اتر سکا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین طویل عرصے سے نیٹو کی رکنیت کو اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسی کا بنیادی ہدف قرار دیتا رہا ہے۔
زلوزنی نے نیٹو معیارات پر سوال اٹھا دیا
رپورٹ کے مطابق ویلری زلوزنی نے یوکرین کے سفیروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تقریباً 12 سال تک نیٹو کے معیارات کے مطابق یوکرینی فوج کو بہتر بنانے پر کام کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہر سال یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ یوکرین جلد نیٹو کا رکن بن جائے گا، لیکن حقیقت اس کے برعکس رہی۔
زلوزنی کے بقول، "بدقسمتی سے، ہم حقیقت میں کبھی بھی نیٹو میں شامل نہیں ہو سکیں گے۔”
جدید دفاعی صلاحیتوں کی ضرورت
سابق آرمی چیف نے کہا کہ یوکرین کو نیٹو میں شامل ہونے کے لیے مزید جدید دفاعی صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان صلاحیتوں میں میزائل دفاعی نظام، خلائی ٹیکنالوجی اور دیگر جدید فوجی وسائل شامل ہیں، جو اس وقت نیٹو کے کئی رکن ممالک استعمال کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ فوجی ڈھانچے کے ساتھ یوکرین ایسی تنظیم میں شامل نہیں ہو سکتا جو اب بھی کئی حوالوں سے دوسری جنگِ عظیم کے بعد بننے والے اصولوں کے تحت کام کر رہی ہے۔
آئین میں نیٹو اور یورپی یونین کی رکنیت شامل
یوکرین کی نیٹو میں شمولیت اور یورپی یونین کی رکنیت ملک کے آئین میں ایک تزویراتی ہدف کے طور پر درج ہے۔
تاہم، یوکرینی حکومت پہلے بھی یہ تسلیم کر چکی ہے کہ اس وقت نیٹو کے تمام رکن ممالک یوکرین کی رکنیت کی حمایت نہیں کرتے۔
زلوزنی اور زیلنسکی کے اختلافات
ویلری زلوزنی کو گزشتہ برس صدر ولادیمیر زیلنسکی نے آرمی چیف کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان روس کے خلاف جاری جنگ کی حکمتِ عملی پر اختلافات سامنے آئے تھے۔ اس کے بعد زلوزنی کو برطانیہ میں یوکرین کا سفیر مقرر کر دیا گیا۔
روس کی مخالفت برقرار
دوسری جانب روس مسلسل یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کی مخالفت کرتا آیا ہے۔
ماسکو کا مؤقف ہے کہ یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنا روس کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہوگا، جبکہ یہی مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کے اہم اسباب میں بھی شامل رہا ہے۔
