Table of Contents
بریدہ: سعودی عرب کے شہر بریدہ کے جنوب میں واقع مرکز النخلہ گراؤنڈ میں بریدہ انٹرنیشنل کھجور میلہ شروع ہوگیا ہے۔ یہ عالمی شہرت یافتہ میلہ 14 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ اس دوران سعودی عرب اور مختلف ممالک سے ہزاروں تاجر، سرمایہ کار، زرعی ماہرین اور سیاح شرکت کریں گے۔
گورنر قصیم کی سرپرستی میں میلے کا انعقاد
بریدہ انٹرنیشنل کھجور میلہ گورنر قصیم ریجن شہزادہ ڈاکٹر فیصل بن مشعل بن عبدالعزیز کی سرپرستی میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس ایونٹ کے انتظامات نیشنل ڈیٹ اینڈ پام سینٹر کے تعاون سے کیے گئے ہیں۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ میلے کا مقصد سعودی عرب کی کھجور کی صنعت کو عالمی سطح پر مزید متعارف کرانا اور زرعی تجارت کو فروغ دینا ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی کھجور منڈی
بریدہ انٹرنیشنل کھجور میلہ دنیا کی سب سے بڑی کھجور منڈیوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں بھی درج ہے۔
ہر سال اس میلے میں مختلف ممالک سے خریدار، برآمد کنندگان اور سرمایہ کار شریک ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سعودی کھجور کی عالمی تجارت کو مزید وسعت ملتی ہے۔
75 روز تک جاری رہنے والا عالمی ایونٹ
یہ میلہ 75 روز تک جاری رہے گا۔ اس دوران کھجور کی مختلف اقسام کی نمائش، خرید و فروخت، نیلامی اور تجارتی ملاقاتوں کا انعقاد ہوگا۔
اس کے علاوہ زراعت، جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور فوڈ انڈسٹری سے متعلق خصوصی پروگرام بھی منعقد کیے جائیں گے۔
قصیم ریجن کھجور کی پیداوار میں سرفہرست
قصیم ریجن سعودی عرب میں کھجور کی پیداوار کا ایک اہم مرکز ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق:
- ریجن میں 11 ملین سے زائد کھجور کے درخت موجود ہیں۔
- سالانہ 578 ہزار ٹن کھجور پیدا ہوتی ہے۔
- کھجور کی صنعت سے 4 ہزار سے زائد افراد کو روزگار حاصل ہے۔
- اس شعبے سے سالانہ 3.2 ارب سعودی ریال کی آمدنی ہوتی ہے۔
یہ اعداد و شمار اس صنعت کی معاشی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔
زرعی آگاہی بھی میلے کا اہم حصہ
بریدہ انٹرنیشنل کھجور میلہ صرف تجارتی سرگرمیوں تک محدود نہیں ہے۔
اس دوران نخلستانوں کی دیکھ بھال، کھجور کی بہتر پیداوار، جدید زرعی ٹیکنالوجی، فصل کے تحفظ اور پیکنگ کے جدید طریقوں پر بھی معلومات فراہم کی جائیں گی۔
ماہرین کسانوں کو عملی تربیت بھی دیں گے تاکہ پیداوار کے معیار اور برآمدات میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔
سعودی معیشت میں اہم کردار
ماہرین کے مطابق بریدہ انٹرنیشنل کھجور میلہ سعودی عرب کی زرعی معیشت، برآمدات اور سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
اسی لیے ہر سال اس میلے کو عالمی سطح پر بھرپور توجہ حاصل ہوتی ہے، جبکہ اس سے مقامی تاجروں اور سرمایہ کاروں کو بھی نئے کاروباری مواقع میسر آتے ہیں۔
