ڈھاکا: بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد ملک میں آئینی طریقہ کار کے تحت نئے صدر کے انتخاب تک عبوری انتظامات نافذ ہو جائیں گے۔
بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق صدر محمد شہاب الدین نے اپنا استعفیٰ جمعہ کی شام قومی پارلیمنٹ کے اسپیکر کو ارسال کیا، جو پارلیمنٹ سیکرٹریٹ کو موصول ہو چکا ہے۔ بنگبھابن ذرائع نے بھی استعفے کی تصدیق کی ہے۔
صدر نے اپنے استعفے میں صحت کے سنگین مسائل کو عہدہ چھوڑنے کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، گردوں کی پیچیدگیوں اور دیگر طبی مسائل کا شکار ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ماضی میں ان کی دل کی بائی پاس سرجری ہو چکی ہے، جبکہ حالیہ طبی معائنے میں انہیں آٹونومک نیوروپیتھی کی تشخیص ہوئی، جس کے باعث وہ بعض اوقات اچانک بے ہوش بھی ہو جاتے ہیں۔
صدر محمد شہاب الدین نے اپنے استعفے میں لکھا کہ مسلسل بگڑتی صحت اور جسمانی و ذہنی کمزوری کے باعث وہ صدر کے آئینی منصب کی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دینے سے قاصر ہیں، اس لیے انہوں نے بنگلہ دیش کے آئین کے آرٹیکل 50(3) کے تحت مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
بنگلہ دیش کے آئینی ضوابط کے مطابق صدر کا استعفیٰ اسپیکر کو موصول ہوتے ہی مؤثر تصور کیا جاتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 54 کے تحت صدر کا منصب خالی ہونے یا بیماری کی صورت میں قومی اسمبلی کے اسپیکر قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں اور نئے صدر کے انتخاب تک یہی انتظام برقرار رہتا ہے۔
محمد شہاب الدین نے اپریل 2023 میں صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ وہ عوامی لیگ کی حکومت کے دوران منتخب ہوئے اور بعد ازاں 2024 کی سیاسی تبدیلیوں، محمد یونس کی عبوری حکومت اور بعد میں قائم ہونے والی حکومت کے دوران بھی اپنے منصب پر برقرار رہے۔
انہیں جولائی 2024 میں طلبہ احتجاج، سیاسی بحران اور حکومت کی تبدیلی کے بعد بھی ملک کے اعلیٰ ترین آئینی منصب پر برقرار رہنے والی نمایاں شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔

