واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے درجنوں تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے دوہرے ہندسوں کے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عارضی 10 فیصد ٹیرف کی مدت ختم ہونے والی ہے اور امریکی انتظامیہ نئی تجارتی پالیسی پر عمل درآمد شروع کر رہی ہے۔
امریکی انتظامیہ کے مطابق نئے ٹیرف کے تحت 60 تجارتی شراکت دار ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 سے 12.5 فیصد تک محصولات عائد کیے جائیں گے۔ وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ ان ممالک نے جبری مشقت (Forced Labor) سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے، جس کے باعث یہ اقدام ناگزیر ہو گیا۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کہا کہ امریکہ میں تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد ہے اور اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار کو اپنائیں اور اس حوالے سے مؤثر اقدامات کریں۔
نئی امریکی پالیسی کے تحت یہ محصولات جمعہ کی صبح سے نافذ ہوں گے، جب دنیا بھر سے درآمدات پر عائد عارضی 10 فیصد ٹیرف کی مدت ختم ہو جائے گی۔ امریکی حکام کے مطابق ان نئے محصولات کا اطلاق ایسے ممالک پر ہوگا جو مجموعی امریکی درآمدات کا تقریباً 99 فیصد حصہ فراہم کرتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب رواں سال فروری میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے بعض بڑے ٹیرف اقدامات کو محدود کر دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ نے عبوری بنیادوں پر 10 فیصد عارضی ٹیرف نافذ کیے تھے۔ اب ان کی جگہ نئی ٹیرف پالیسی متعارف کرائی جا رہی ہے، جسے امریکی حکومت اپنی تجارتی اور انسانی حقوق سے متعلق حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے ٹیرف سے عالمی تجارت، سپلائی چینز اور مختلف ممالک کے ساتھ امریکی تجارتی تعلقات پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ متاثرہ ممالک کی جانب سے ممکنہ جوابی اقدامات بھی عالمی منڈیوں کی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

