اسلام آباد: پاکستان میں قازقستان کے سفیر یرژان کِسٹافن نے کہا ہے کہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سلامتی، علاقائی رابطوں اور استحکام کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فضائی پروازیں رواں سال کے آخر یا آئندہ سال شروع کیے جانے کا امکان ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قازق سفیر نے کہا کہ مجوزہ براہِ راست پروازوں سے تجارتی سرگرمیوں، سیاحت اور عوامی روابط میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی جہت ملے گی۔
انہوں نے پاکستان میں اپنے پانچ سالہ سفارتی دور کو یادگار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ انہوں نے فروری 2026 میں قازقستان کے صدر قاسم جومارٹ توکایف کے دورۂ پاکستان کو دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں اہم سنگِ میل قرار دیا۔
سفیر یرژان کِسٹافن نے بتایا کہ پاکستان۔قازقستان بزنس کونسل دوبارہ فعال ہو چکی ہے اور مؤثر انداز میں کام کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا ایک اہم شعبہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی طلبہ کو جلد قازقستان میں اعلیٰ تعلیم کے مزید مواقع فراہم کیے جائیں گے، جس کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون کو وسعت دی جا رہی ہے۔
قازق سفیر نے توانائی، تجارت اور علاقائی روابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریل اور سڑکوں کے نیٹ ورک کی بہتری وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ صدر قاسم جومارٹ توکایف کی قیادت میں قازقستان میں مختلف اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، جن کے تحت تعلیم اور صحت کے شعبوں کو خصوصی ترجیح دی جا رہی ہے اور قومی بجٹ کا بڑا حصہ انسانی ترقی پر خرچ کیا جا رہا ہے۔
سفیر نے میڈیا تعاون اور کاروباری روابط بڑھانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو صدر قاسم جومارٹ توکایف نے قازقستان کے دورے کی دعوت دی ہے اور امکان ہے کہ وزیراعظم رواں سال کے آخر یا آئندہ سال قازقستان کا دورہ کریں گے، جس سے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

