Table of Contents
لاہور: رشین سینٹر فار سائنس، ایجوکیشن اینڈ کلچر لاہور کے زیرِ اہتمام عظیم روسی ڈرامہ نگار، افسانہ نگار اور مصنف انتون چیخوف کی یاد میں ایک خصوصی ادبی نشست منعقد کی گئی، جس میں ممتاز ادیبوں، دانشوروں، اساتذہ اور صحافیوں نے شرکت کی۔

تقریب کی صدارت روسی سنٹر کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن نے کی، جبکہ مقررین میں پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی، ڈاکٹر افتخار بخاری، پروفیسر افتخار رسول شیخ، امتیاز الحق اور ڈاکٹر عارفہ سبحان خان شامل تھے۔
چیخوف غریبوں کے مخلص ہمدرد تھے، ڈاکٹر اشرف نظامی
پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی نے انتون چیخوف کی زندگی اور ادبی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ چیخوف نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ غربت اور مشکلات میں گزارا، مگر اس کے باوجود انہوں نے عالمی ادب کو لازوال شاہکار عطا کیے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ چیخوف نہ سوشلسٹ تھے، نہ کمیونسٹ اور نہ ہی مارکسسٹ، لیکن وہ غریب اور محروم طبقے کے سچے ہمدرد تھے۔ ان کی تحریروں میں استحصالی معاشرتی نظام کے خلاف واضح احتجاج اور عام انسان کے دکھ درد کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔
چیخوف کا ادب آج بھی زندہ ہے
ڈاکٹر افتخار بخاری نے کہا کہ چیخوف مختصر زندگی کے باوجود عالمی ادب کی عظیم ترین شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے ڈرامے اور افسانے انسانی نفسیات کی گہری عکاسی کرتے ہیں اور دنیا کی متعدد زبانوں میں ترجمہ ہو چکے ہیں۔
پروفیسر افتخار رسول شیخ نے کہا کہ چیخوف کے ڈرامے اور مختصر کہانیاں عام روسی شہریوں، خصوصاً نچلے طبقے کے مسائل، محرومیوں اور سماجی ناانصافیوں کی بھرپور تصویر پیش کرتی ہیں۔ انہوں نے چیخوف کو جدید روسی مختصر کہانی کا بانی قرار دیا۔
ڈاکٹر عارفہ سبحان خان نے بھی چیخوف کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں عالمی ادب کا ایک درخشاں ستارہ قرار دیا۔
اردو ترجمہ پیش کیا گیا
تقریب کے دوران روسی زبان کے انسٹرکٹر امتیاز الحق نے انتون چیخوف کے ایک مشہور ڈرامے کا اردو ترجمہ پیش کیا، جسے حاضرین نے بے حد سراہا اور خوب داد دی۔
روسی زبان سیکھنے کی اہمیت پر زور
اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر شاہد حسن نے روسی ادب اور ثقافت کی مختلف جہتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ روسی زبان سیکھنے سے طلبہ اور محققین کو روسی ادب کو اس کی اصل روح کے ساتھ سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رشین سینٹر فار سائنس، ایجوکیشن اینڈ کلچر میں روسی زبان کے باقاعدہ کورسز کرائے جا رہے ہیں تاکہ نوجوان نسل روسی ادب، زبان اور ثقافت سے براہِ راست استفادہ کر سکے۔
تقریب میں ادیبوں، شاعروں، صحافیوں، ماہرین تعلیم، طلبہ اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

