پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے دورۂ ترکیہ کے دوران صدر رجب طیب ایردوآن سے اہم ملاقات کی، جس میں علاقائی سلامتی، دفاعی تعاون اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں منگل کے روز ہوئیں، جن میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ دفاعی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر بھی گفتگو کی گئی۔
دورے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ترکیہ کے وزیر دفاع اور ترک مسلح افواج کی اعلیٰ عسکری قیادت سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں دفاعی تعاون، مشترکہ تربیتی پروگراموں اور عسکری روابط کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔
ترک فوج کے سربراہ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پاک-ترک دفاعی تعاون کے فروغ میں خدمات کے اعتراف میں اعزازی شیلڈ بھی پیش کی۔
فیلڈ مارشل نے ترک بری فوج کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کمانڈر جنرل متین توکل سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے ترکیہ کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کے مزار پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی اور خراجِ عقیدت پیش کیا۔
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان حالیہ برسوں میں دفاعی تعلقات میں نمایاں وسعت آئی ہے۔ دونوں ممالک بحری دفاع، عسکری تربیت، دفاعی پیداوار، مشترکہ فوجی مشقوں اور بغیر پائلٹ طیاروں (ڈرونز) کے شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
2018 میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ایک اہم دفاعی معاہدہ بھی طے پایا تھا، جس کے تحت ترک دفاعی صنعت نے پاک بحریہ کے لیے جنگی بحری جہازوں کی تعمیر اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کا منصوبہ شروع کیا۔ بعد ازاں دفاعی تعاون کو سہ فریقی شکل دی گئی، جس میں سعودی عرب بھی شامل ہو گیا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں سکیورٹی صورتحال اور دفاعی تعاون کے حوالے سے ترکیہ کی سفارتی و عسکری سرگرمیاں عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔

