برطانیہ نے یورپ میں مبینہ پراکسی حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام پر لندن میں تعینات ایران کے سینئر سفارت کار کو طلب کرتے ہوئے تہران کے خلاف سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
رائٹرز کے مطابق برطانوی وزارت خارجہ نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کی قدس فورس سے وابستہ ناظم الامور علی نسیم فر کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا، جہاں انہیں ایران کی مبینہ سرگرمیوں پر برطانیہ کے شدید تحفظات سے آگاہ کیا گیا۔
برطانوی حکومت کا الزام ہے کہ مارچ سے مئی کے دوران ایران نے ایک پراکسی گروپ کے ذریعے یورپ کے مختلف ممالک میں حملوں کی منصوبہ بندی اور ہدایات جاری کیں۔ وزارت خارجہ نے اس گروپ کی شناخت اسلامی تحریک صحابہ الحق کے نام سے کی اور ان سرگرمیوں کو "مکمل طور پر ناقابل قبول” قرار دیا۔
برطانوی وزارت خارجہ کے مطابق متعدد انتباہات کے باوجود ایران کی انٹیلی جنس سروسز نے اپنی مبینہ دشمنانہ سرگرمیاں بند کرنے کے بجائے انہیں مزید تیز کر دیا ہے۔
دوسری جانب لندن میں ایرانی سفارت خانے کی جانب سے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ایران ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ وہ پراکسی گروپوں کے ذریعے کارروائیاں نہیں کراتا۔
ادھر برطانیہ نے پیر کے روز IRGC اور اس سے منسلک ایک گروپ کو نئی قومی سلامتی پالیسی کے تحت سیکیورٹی خطرہ قرار دیا تھا۔ ان اقدامات کا مقصد غیر ملکی ریاستوں کی جانب سے نگرانی، تخریب کاری اور پراکسی نیٹ ورکس کے استعمال کو روکنا بتایا گیا ہے۔
تہران نے برطانیہ کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی انقلابی گارڈ کور ایران کی مسلح افواج کا ایک باقاعدہ حصہ ہے اور اسے نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
یاد رہے کہ قدس فورس، اسلامی انقلابی گارڈ کور کا بیرونِ ملک آپریشنز انجام دینے والا یونٹ ہے، جبکہ امریکا پہلے ہی IRGC کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔
