سری نگر: مقبوضہ جموں و کشمیر کی حکومت نے انتہاپسند تنظیم بی جے پی کی جانب سے مبینہ "تعلیمی جہاد” سے متعلق اعتراضات کے بعد کشمیر ڈویژن کے تمام سرکاری، تسلیم شدہ نجی اسکولوں اور کوچنگ سینٹرز کو اپنے تعلیمی مواد اور کتب کا جائزہ لینے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق متعلقہ حکام نے تعلیمی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کتب خانوں اور نصابی مواد کا جائزہ لے کر اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہاں "نامناسب یا قابل اعتراض مواد” موجود نہ ہو۔
رپورٹس کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکمران جماعت بی جے پی کے بعض رہنماؤں نے چند تعلیمی کتابوں پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے انہیں "تعلیمی جہاد” سے تعبیر کیا تھا اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس جائزہ عمل کا مقصد تعلیمی اداروں میں استعمال ہونے والے مواد کی جانچ اور ضابطوں کے مطابق اس کی مطابقت کو یقینی بنانا ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کن کتابوں یا مواد کو قابل اعتراض قرار دیا گیا ہے۔
اس معاملے پر مختلف حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، جبکہ تعلیمی اور سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے ممکنہ اثرات پر آئندہ دنوں میں مزید بحث متوقع ہے۔
