واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مختلف ریاستوں پر انتخابی طریقۂ کار میں تبدیلیوں کے لیے دباؤ بڑھاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر بعض اصلاحات نافذ نہ کی گئیں تو وفاقی فنڈز روکے جا سکتے ہیں، جبکہ ووٹر رجسٹریشن سے متعلق قوانین پر عمل نہ کرنے والے انتخابی حکام کو قانونی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے تمام 50 ریاستوں اور ضلع کولمبیا کے انتخابی حکام کو خطوط ارسال کیے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ اگر غیر امریکی شہریوں کو ووٹر فہرستوں میں رہنے دیا گیا یا انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی تو متعلقہ حکام کے خلاف مجرمانہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔
خطوط میں ریاستی حکام سے پانچ روز کے اندر وفاقی حکومت کو یہ بھی آگاہ کرنے کا کہا گیا ہے کہ وہ متعلقہ انتخابی قوانین پر کس طرح عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔
اس کے ساتھ ہی امریکی محکمہ برائے داخلی سلامتی کے ماتحت Federal Emergency Management Agency کی جانب سے جاری انسداد دہشت گردی گرانٹس کی نئی شرائط میں انتخابی نظام سے متعلق اضافی تقاضے بھی شامل کیے گئے ہیں۔
ان شرائط کے مطابق ریاستوں اور مقامی حکومتوں کو انتخابی عمل کے حوالے سے متعدد اقدامات کرنا ہوں گے، بصورت دیگر مخصوص وفاقی گرانٹس کا تقریباً 20 فیصد حصہ روکا جا سکتا ہے۔
مجوزہ تقاضوں میں رجسٹرڈ ووٹروں اور انتخابی عملے کی شہریت کی تصدیق، بعض الیکٹرانک ووٹنگ سسٹمز کے متبادل انتظامات، اور انتخابی آڈٹس کے نتائج پیش کرنا شامل ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں سے بعض اقدامات پر عمل درآمد کے لیے ریاستی اسمبلیوں سے نئی قانون سازی درکار ہوگی، جبکہ کچھ تبدیلیاں آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل عملی طور پر ممکن نہیں۔
Rick Hasen نے کہا کہ انتظامیہ مختلف انتظامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ریاستوں کے انتخابی نظام پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم ان کے مطابق اس کا ایک مقصد انتخابی عمل پر عوامی اعتماد کو متاثر کرنا بھی ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب قانون کے تحت شہری حقوق کی تنظیم کے نمائندے Robert Weiner نے کہا کہ غیر امریکی شہریوں کے ووٹ ڈالنے کے واقعات انتہائی کم ہوتے ہیں، اس لیے ان اقدامات کے پس منظر میں دیگر سیاسی مقاصد بھی ہو سکتے ہیں۔
کئی ڈیموکریٹ ریاستوں نے ان اقدامات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں وفاقی اختیارات سے تجاوز قرار دیا ہے، جبکہ بعض ریپبلکن ریاستوں نے انتخابی شفافیت کے لیے ان اصلاحات کی حمایت کی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا میں آئندہ وسط مدتی انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں اور انتخابی قوانین ایک مرتبہ پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گئے ہیں۔
