Table of Contents
لاہور پولیس نے دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا، زیادتی اور تاوان کے کیس سے متعلق پہلی مرتبہ تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ بیرونِ ملک سے ون فائیو پر موصول ہونے والی شکایت کے بعد فوری تحقیقات کا آغاز کیا گیا، جس کے نتیجے میں چار ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا کہ ایک غیر ملکی خاتون کے والد نے بیرونِ ملک سے ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر کال کر کے اپنی بیٹی کے لاہور میں اغوا ہونے کی اطلاع دی تھی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی کیس کا نوٹس لیتے ہوئے شفاف اور میرٹ پر کارروائی کی ہدایت کی۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں غیر ملکی خواتین 26 جون کو اسلام آباد پہنچیں، 29 جون کو لاہور آئیں اور اسی روز ان کے مبینہ اغوا کی اطلاع ملی۔
تحقیقات کیسے آگے بڑھیں؟
ڈی آئی جی کے مطابق تحقیقات کا آغاز اس گاڑی کے رجسٹریشن نمبر سے کیا گیا جس کی تصویر متاثرہ خاتون نے اپنے والد کو بھیجی تھی۔ ایکسائز ریکارڈ کی مدد سے گاڑی کے مالک اور اس سے منسلک فون نمبرز کا سراغ لگایا گیا۔
تحقیقات کے دوران سرگودھا، شاہدرہ اور لاہور کے ڈیفنس کے مختلف مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے گئے۔ پولیس کے مطابق ملزمان کو کارروائی کی اطلاع ملنے کے بعد انہوں نے متاثرہ خواتین کو ہوائی اڈے چھوڑنے کا بہانہ بنایا، تاہم راستے میں خواتین کو شک ہوا کہ انہیں ایئرپورٹ نہیں لے جایا جا رہا۔
پولیس کے مطابق دونوں خواتین نے بھٹہ چوک کے قریب چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا دی اور قریبی دکان میں پناہ لی، جہاں بعد ازاں لاہور پولیس کے ایک اے ایس پی نے انہیں بحفاظت بازیاب کر لیا۔
چار ملزمان گرفتار، عدالت سے ریمانڈ حاصل
فیصل کامران نے بتایا کہ گاڑی کی لوکیشن اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر مرکزی ملزم سمیت دیگر افراد کو ٹریس کیا گیا اور 2 جولائی کو چار ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ تمام ملزمان کو عام ملزمان کی طرح ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خواتین نے میڈیکل معائنے اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیانات بھی ریکارڈ کروائے، جس کے دوران نیدرلینڈز کے قونصل خانے کے نمائندے بھی موجود تھے۔ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد خواتین کو ان کی خواہش کے مطابق بیرونِ ملک روانہ کر دیا گیا۔
کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نہیں، متعلقہ تھانہ تفتیش کرے گا
ڈی آئی جی آپریشنز نے واضح کیا کہ اس حساس نوعیت کے مقدمے کی تفتیش کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے بجائے متعلقہ پولیس تھانے کے تفتیشی افسران ہی کریں گے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تحقیقات کے دوران بعض ملزمان کے سرگودھا سے تعلق اور ایک بااثر شخصیت سے خاندانی روابط کی معلومات سامنے آئیں، تاہم پولیس نے قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی۔
پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سخت سوالات
پریس کانفرنس کے اختتام پر صحافیوں نے کیس کے مختلف پہلوؤں پر سخت سوالات کیے، جن میں تحقیقات کی رفتار، بااثر افراد کے کردار اور قانونی کارروائی سے متعلق استفسارات شامل تھے۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے چند سوالات کے جواب دینے کے بعد پریس کانفرنس ختم کر دی اور وہاں سے روانہ ہو گئے، جس پر بعض صحافیوں نے احتجاج کرتے ہوئے "شیم، شیم” کے نعرے بھی لگائے اور مؤقف اختیار کیا کہ پولیس کو عوامی سوالات کے مکمل جوابات دینے چاہئیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش جاری ہے اور تمام شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی آگے بڑھائی جا رہی ہے۔
