روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے مشرقی یوکرین کے اہم شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا ہے، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے واضح کیا ہے کہ ماسکو جنگ میں اپنے تمام اہداف حاصل کرنے اور ہر قیمت پر فتح یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
کریملن کے مطابق صدر پوتن نے اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور وزارت دفاع کے حکام کے ہمراہ ایک فوجی کمانڈ پوسٹ کا دورہ کیا، جہاں انہیں ڈونباس محاذ پر جاری فوجی کارروائیوں اور کوستیان تینیو پر قبضے سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
صدر پوتن نے اس موقع پر کہا کہ انہیں یقین ہے کہ روس اس جنگ میں کامیابی حاصل کرے گا، تاہم فوجی قیادت کو کارروائیوں کے دوران روسی فوجیوں کی جانوں کے تحفظ اور جنگی اہداف کے مؤثر حصول کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔
انہوں نے یوکرین پر الزام عائد کیا کہ کیف حکومت میدان جنگ میں اپنی پوزیشن بہتر ظاہر کرنے کے لیے تخریبی اور دہشت گردانہ کارروائیوں کا سہارا لے رہی ہے۔ ان کے بقول یوکرین کی موجودہ حکمت عملی نہ صرف خود اس کے لیے بلکہ اس کے مغربی اتحادیوں کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
روسی صدر نے یورپی ممالک پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض مغربی ممالک امن کی بات کرتے ہیں لیکن عملی طور پر جنگ کو طول دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مغربی ممالک یوکرین کی جانب سے روسی شہریوں، شہری تنصیبات، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک یا تعلیمی اداروں پر ڈرون حملوں کی حمایت کرتے ہیں تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
پوتن نے روسی فوج کو ہدایت دی کہ یوکرین کے فوجی صنعتی ڈھانچے اور جنگی صلاحیت کو سہارا دینے والی تنصیبات پر حملے جاری رکھے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روسی علاقوں پر حملوں میں اضافے کی صورت میں ماسکو اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے مزید وسیع حفاظتی زون قائم کرنے پر مجبور ہوگا۔
انہوں نے مغربی ممالک کو بالواسطہ انتباہ دیتے ہوئے فوجی قیادت کو یہ بھی ہدایت دی کہ جنگ میں بیرونی ممالک کی ممکنہ براہ راست شمولیت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل کی حکمت عملی اسی بنیاد پر مرتب کی جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق روسی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقی یوکرین میں لڑائی شدت اختیار کر چکی ہے اور روس و یوکرین کے درمیان فوجی محاذ آرائی کے ساتھ ساتھ سفارتی کشیدگی بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
