واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں پٹرول کی قیمتوں میں مطلوبہ کمی نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فیول ریٹیلرز سے فوری طور پر قیمتیں کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صارفین کو ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو حکومت سخت اقدامات کر سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ پٹرول کی قیمتیں فوری طور پر کم کی جائیں اور صارفین سے ناجائز منافع خوری کا سلسلہ بند کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں پٹرول کی قیمت تقریباً 2.50 ڈالر فی گیلن ہونی چاہیے، لیکن اگر ریٹیلرز نے اس سمت میں اقدامات نہ کیے تو انہیں "بڑے مسائل” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس وقت امریکہ میں پٹرول کی اوسط قیمت 3.40 سے 3.50 ڈالر فی گیلن کے درمیان ہے، تاہم مختلف ریاستوں میں قیمتوں میں نمایاں فرق موجود ہے۔ کیلیفورنیا اور نیویارک جیسی ریاستوں میں پٹرول نسبتاً مہنگا فروخت ہو رہا ہے، جبکہ ٹیکساس اور مسیسیپی میں قیمتیں قومی اوسط سے کم ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق حکومت اس سے قبل بھی تیل کمپنیوں اور فیول سپلائرز کی جانب سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود صارفین کو مکمل ریلیف نہ دینے پر تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔ بعض حکام نے قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کی تحقیقات کا عندیہ بھی دیا تھا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ عالمی کشیدگی اور توانائی کی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باعث ایندھن کی قیمتیں دباؤ کا شکار رہی ہیں، تاہم امریکی انتظامیہ کی جانب سے قیمتوں میں کمی کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کے نتیجے میں آئندہ دنوں میں حکومت اور تیل کمپنیوں کے درمیان اختلافات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مہنگائی پر قابو پانا امریکی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے، اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
