بغداد: عراق میں حکومت کی جانب سے جاری ملک گیر انسدادِ بدعنوانی مہم کے تحت سیکیورٹی فورسز نے خاتون رکن پارلیمنٹ عالیہ نصیف اور ان کے بیٹے سجاد کو گرفتار کر لیا، جبکہ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی رہائش گاہ سے تقریباً 20 ارب عراقی دینار (تقریباً 15.5 ملین امریکی ڈالر) نقد رقم اور بڑی مقدار میں سونا برآمد کیا گیا ہے۔
عراقی میڈیا اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سجاد ماضی میں سابق وزیراعظم محمد شیاع السودانی کے دفتر میں چیف آف اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اتوار کی علی الصبح عراق کی کاؤنٹر ٹیررازم سروس (CTS) کی خصوصی ٹیموں نے دارالحکومت بغداد کے انتہائی محفوظ گرین زون سمیت مختلف علاقوں میں بیک وقت چھاپے مارے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں وزیراعظم علی الزیدی کی ہدایت پر شروع کی گئی وسیع پیمانے کی انسدادِ بدعنوانی مہم کا حصہ ہیں۔
حکام کے مطابق عالیہ نصیف کے گھر کی تلاشی کے دوران بھاری مقدار میں نقد رقم اور سونا برآمد کیا گیا، جبکہ مجموعی کارروائیوں کے دوران مختلف مقامات سے 85 ملین امریکی ڈالر سے زائد مالیت کے اثاثے، اربوں عراقی دینار، غیر ملکی کرنسی اور قیمتی دھاتیں بھی قبضے میں لی گئیں۔
عراقی حکام کا کہنا ہے کہ تمام گرفتاریاں عدالتی وارنٹس کی بنیاد پر عمل میں لائی گئیں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق بعض کارروائیاں سابق نائب وزیرِ تیل عدنان الجمیلی سے دورانِ تفتیش حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر کی گئیں، جنہیں مئی کے آخر میں بدعنوانی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں میں ایسے ارکان پارلیمنٹ کو بھی گرفتار کیا گیا جن کی پارلیمانی استثنیٰ پہلے ہی ختم کی جا چکی تھی، جبکہ متعدد سرکاری افسران بھی تحقیقات کی زد میں ہیں۔ چند مشتبہ افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوئے، جس کے بعد گرین زون کے داخلی و خارجی راستے بند کر کے سرچ آپریشن مزید وسیع کر دیا گیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل عراقی حکام نے ایک اور بڑے کرپشن کیس میں 107 ملین امریکی ڈالر سے زائد مالیت کے سرکاری فنڈز کی بازیابی کا اعلان کیا تھا۔ عراق کی سپریم جوڈیشل کونسل کے مطابق اس کارروائی کے دوران گھروں کے نیچے چھپائی گئی اربوں دینار کی نقد رقم، سونا، اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا تھا۔
عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں بدعنوانی کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی اور قانون کی عملداری یقینی بنانے کے لیے تمام ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
