تہران/مسقط: ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق قائم کی گئی مشترکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے اس اہم عالمی بحری گزرگاہ کے انتظام، محفوظ بحری نقل و حمل اور مستقبل کے تعاون سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
اجلاس کے بعد ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ مشترکہ کمیٹی دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کے تحت قائم کی گئی ہے، جس کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز کے انتظام، بحری آمدورفت اور متعلقہ تکنیکی و انتظامی معاملات پر باقاعدہ مشاورت اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس میں آبنائے ہرمز کے انتظامی ڈھانچے، بحری ٹریفک کی مؤثر نگرانی، تکنیکی تعاون کے مختلف پہلوؤں اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔
کاظم غریب آبادی کے مطابق ایران اور عمان نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں استحکام، محفوظ بحری آمدورفت اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے مسلسل رابطے اور مشاورت جاری رکھی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب حالیہ ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور اس آبی گزرگاہ کی سلامتی سے متعلق مختلف سفارتی اور علاقائی اقدامات سامنے آ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل، قدرتی گیس اور دیگر توانائی کی مصنوعات کی بڑی مقدار مختلف بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اس آبی راستے میں استحکام اور محفوظ بحری نقل و حمل عالمی تجارت، توانائی کی سپلائی اور خطے کی سلامتی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
