اسلام آباد: آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں شرکت کے بعد پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم وطن واپس پہنچ گئی۔ قومی ٹیم نے عالمی ایونٹ سے قبل آئرلینڈ میں منعقدہ سہ ملکی ٹی 20 ٹورنامنٹ میں بھی حصہ لیا، جہاں کھلاڑیوں نے ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں اہم مقابلے کھیلے۔
ورلڈ کپ میں پاکستان ویمن ٹیم کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہ رہی۔ قومی ٹیم نے گروپ مرحلے میں مجموعی طور پر چار میچز کھیلے، جن میں صرف ایک کامیابی حاصل کی جبکہ تین مقابلوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث ٹیم سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکی۔
پاکستان کو اپنے افتتاحی میچ میں بھارت کے ہاتھوں 64 رنز سے شکست ہوئی، جبکہ دوسرے میچ میں جنوبی افریقہ نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد دو وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ تیسرے گروپ میچ میں بنگلہ دیش نے پاکستان کو 23 رنز سے ہرایا، جس کے بعد قومی ٹیم کے سیمی فائنل تک پہنچنے کی امیدیں ختم ہوگئیں۔
تاہم پاکستان نے ایونٹ کے آخری گروپ میچ میں نیدرلینڈز کو 37 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ کا اختتام فتح کے ساتھ کیا۔ اس میچ میں پاکستان کی بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں عمدہ کارکردگی دیکھنے میں آئی۔
قومی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء نے پورے ایونٹ میں آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کے لیے نمایاں کردار ادا کیا، جبکہ نیدرلینڈز کے خلاف آخری میچ میں عائشہ ظفر نے 32 رنز کی اہم اننگز کھیلنے کے ساتھ تین وکٹیں بھی حاصل کیں، جس پر انہیں ٹیم کی کامیابی کا اہم معمار قرار دیا گیا۔
اگرچہ پاکستان ویمن ٹیم گروپ مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکی، تاہم ٹیم کے نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی اور عالمی سطح پر حاصل ہونے والا تجربہ مستقبل کے بین الاقوامی مقابلوں کے لیے اہم سرمایہ تصور کیا جا رہا ہے۔
