اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے انسانی اعضاء کی مبینہ اسمگلنگ کے ایک اہم مقدمے میں گرفتار تین غیر ملکی شہریوں اور دو پاکستانی ملزمان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حوالے کر دیا ہے تاکہ مزید تفتیش کی جا سکے۔
سماعت کے دوران ملزمان کو ڈیوٹی جج میاں اظہر ندیم کے روبرو پیش کیا گیا۔ ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کو انسانی اعضاء ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کے تعاون سے اسلام آباد کے سیکٹر ایف-7 میں مشترکہ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔
تفتیشی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران مختلف شکلوں میں محفوظ بڑی مقدار میں انسانی پلاسنٹا برآمد کیا گیا، جس میں تازہ، خشک اور پروسیس شدہ مواد شامل ہے۔ تمام برآمد شدہ مواد کو فرانزک اور مزید تکنیکی جانچ کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کا مؤقف ہے کہ ملزمان پشاور، راولپنڈی اور لاہور کے مختلف اسپتالوں سے انسانی پلاسنٹا جمع کرتے تھے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ مواد ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے اکٹھا کیا جاتا تھا، بعد ازاں اسے پروسیس کر کے بیرون ملک بھیجنے کی تیاری کی جاتی تھی۔
حکام نے عدالت کو مزید بتایا کہ پروسیس شدہ انسانی پلاسنٹا کو مبینہ طور پر جعلی کسٹمز دستاویزات میں بھیڑ کے اعضاء ظاہر کر کے برآمد کیا جاتا تھا تاکہ حکام کی نظروں سے بچا جا سکے۔ تفتیشی ٹیم اس نیٹ ورک کے دیگر مبینہ سہولت کاروں، سپلائی چین اور بیرون ملک ممکنہ خریداروں یا منزلوں کا بھی سراغ لگا رہی ہے۔
ایف آئی اے نے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان سے مزید پوچھ گچھ، ڈیجیٹل اور مالی شواہد کی جانچ اور ممکنہ ساتھیوں کی شناخت کے لیے وقت درکار ہے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد پانچوں ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ مقررہ مدت مکمل ہونے پر ملزمان کو دوبارہ پیش کیا جائے تاکہ آئندہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور شواہد کی روشنی میں مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آ سکتی ہیں، تاہم حتمی ذمہ داری کا تعین عدالت میں شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
