Table of Contents
واشنگٹن: امریکی سینیٹ نے ایک تاریخی اقدام کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف مزید کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی سے روکنے کی ہدایت کرنے والی قرارداد منظور کر لی ہے۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں کی جانب سے ریپبلکن صدر کی خارجہ پالیسی پر یہ اب تک کی سب سے کڑی اور غیر معمولی تنقید قرار دی جا رہی ہے۔
سینیٹ میں تاریخی ووٹنگ اور ریپبلکنز کا یوٹرن
سینیٹ نے تاریخی ‘وار پاورز ریزولیوشن’ (جنگی طاقتوں کی قرارداد) کے حق میں 48 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے منظوری دی۔ یہ قرارداد رواں ماہ کے اوائل میں ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) سے پہلے ہی پاس ہو چکی تھی۔ تہران کے ساتھ حالیہ غیر مقبول تنازعے کے بعد خود صدر ٹرمپ کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے کچھ سینیٹرز نے بھی اس قانون کی حمایت کی، جو صدر کی جنگی حکمتِ عملی پر پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی تشویش کو ظاہر کرتی ہے۔
1973 کے بعد پہلی بار دونوں ایوانوں کا بڑا ایکشن
امریکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ 1973 میں ‘وار پاورز ایکٹ’ کے نفاذ کے بعد سے کانگریس کے دونوں ایوانوں نے صدر کو امریکی مسلح افواج کو دشمنی سے ہٹانے کی براہِ راست ہدایت جاری کی ہے۔ یہ ووٹنگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کانگریس سے اس جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے دسیوں ارب ڈالر کی اضافی فنڈنگ کی اجازت مانگنے کی تیاری کر رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس کا مؤقف اور آئینی بحران کا خطرہ
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے سینیٹ کے اس ووٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے معنی قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد قانون کی طاقت نہیں رکھتی کیونکہ اسے صدر کے دستخط کے لیے نہیں بھیجا جائے گا۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وائٹ ہاؤس پہلے ہی 7 اپریل کو جنگ بندی کا اعلان کر چکا ہے، اس لیے اس قرارداد کا اب کوئی جواز نہیں بنتا۔ قانونی ماہرین کے مطابق اب یہ معاملہ ممکنہ طور پر امریکی عدالتوں میں طے پائے گا۔
