Table of Contents
اسلام آباد: وفاقى وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرِ جہادِ زراعت غلام رضا نوری قزلجہ کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی ہے۔ اس اہم بیٹھک میں دونوں برادر ممالک کے مابین زرعی تعاون کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور باہمی تجارت کے فروغ کے لیے نئی معاشی راہوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں بڑی پیش رفت
اجلاس کے دوران زراعت، لائیو اسٹاک (پشوبانی)، غذائی تحفظ، زرعی تحقیق اور تجارتی سہولت کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ دونوں فریقین نے اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور موجودہ معاہدوں کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا تاکہ دونوں ممالک کے کسانوں، تاجروں اور صارفین کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکے۔
پاکستانی چاول، آم اور گوشت کی ایران برآمد
رانا تنویر حسین نے اپنے 2025 کے سرکاری دورۂ ایران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے اہم زرعی اجناس کی دوطرفہ تجارت میں توسیع پر اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران نے پاکستانی چاول، آم اور گوشت درآمد (Import) کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے تاکہ اپنی بڑھتی ہوئی ملکی ضروریات کو پورا کر سکے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان زرعی پیداوار کے شعبے میں وسیع صلاحیتوں کا حامل ہے اور ایرانی منڈی کو اعلیٰ معیار کی مصنوعات فراہم کرنے کی مکمل استعداد رکھتا ہے۔
ایران کی گوشت کی 60 فیصد ضرورت پاکستان پوری کر سکتا ہے
ایرانی وزیرِ زراعت غلام رضا نوری قزلجہ نے پاکستان سے گوشت درآمد کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ایک بڑا انکشاف کیا کہ "پاکستان، ایران کی مجموعی درآمدی گوشت کی ضروریات کا تقریباً 60 فیصد اکیلا پورا کرنے کی شاندار صلاحیت رکھتا ہے۔”
انہوں نے پاکستانی لائیو اسٹاک مصنوعات کے معیار اور بین الاقوامی معیارات پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر تجارتی طریقہ کار وضع کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
دو ماہ کے اندر تمام فیصلوں پر عملدرآمد کا ہدف
دونوں وزراء نے سابقہ ملاقاتوں میں طے پانے والی مفاہمتوں کا جائزہ لیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ مشترکہ اعلامیے میں شامل تمام فیصلوں اور وعدوں پر آئندہ دو ماہ کے اندر ہر صورت عملدرآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تجارتی سرگرمیوں میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اقدامات تیز کیے جائیں۔ اجلاس میں "پاکستان۔ایران مشترکہ ورکنگ کمیٹی برائے زراعت” کو مکمل طور پر فعال اور مؤثر بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
رانا تنویر حسین نے آخر میں کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان زرعی تعاون کا فروغ علاقائی غذائی تحفظ، سرمایہ کاری میں اضافے، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پائیدار اقتصادی ترقی میں اہم ترین کردار ادا کرے گا۔
