فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے میں سعودی عرب اور مصر نے مضبوط حریفوں کے خلاف متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا، تاہم دونوں ٹیمیں فتح کے قریب پہنچ کر بھی کامیابی اپنے نام نہ کر سکیں اور مقابلے برابر رہے۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سلسلے میں امریکا کے شہر لاس اینجلس میں کھیلے گئے دلچسپ مقابلے میں ایران نے نیوزی لینڈ کے خلاف دو گول خسارے کے باوجود شاندار واپسی کرتے ہوئے میچ 2-2 سے برابر کر دیا۔
میچ کے دوران نیوزی لینڈ کے فارورڈ ایلیجا جسٹ نے دو مرتبہ گیند کو جال کی راہ دکھا کر اپنی ٹیم کو برتری دلائی، تاہم ایران نے ہمت نہ ہاری اور مسلسل دباؤ برقرار رکھا۔ ایرانی ٹیم کی جانب سے رامین رضائیان اور محمد محیبی نے ایک ایک گول اسکور کر کے مقابلہ برابر کر دیا اور اپنی ٹیم کو شکست سے بچا لیا۔
ورلڈ کپ کے اس روز کھیلے گئے دیگر مقابلے بھی انتہائی دلچسپ ثابت ہوئے، تاہم کوئی بھی ٹیم فتح حاصل نہ کر سکی۔
گروپ مرحلے کے ایک اور حیران کن مقابلے میں عالمی درجہ بندی میں 64ویں نمبر پر موجود کیپ وردے نے سابق عالمی چیمپئن اسپین کو گول کرنے سے روک دیا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان میچ بغیر کسی گول کے برابر ختم ہوا، جسے ٹورنامنٹ کے ابتدائی بڑے اپ سیٹس میں شمار کیا جا رہا ہے۔
ادھر مصر اور بیلجیئم کے درمیان ہونے والا میچ بھی 1-1 سے ڈرا ہوگیا۔ مصر نے ابتدا میں برتری حاصل کی تھی، لیکن مصری مدافع محمد ہانی کے بدقسمت اون گول نے بیلجیئم کو مقابلہ برابر کرنے کا موقع فراہم کر دیا۔
گروپ ایچ کے ایک اور اہم مقابلے میں سعودی عرب فتح کے انتہائی قریب پہنچ گیا تھا، تاہم یوراگوئے نے آخری مراحل میں گول کر کے میچ 1-1 سے برابر کر دیا۔ سعودی ٹیم نے شاندار دفاعی کھیل پیش کیا لیکن مکمل تین پوائنٹس حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ابتدائی مرحلے میں مسلسل ڈرا نتائج نے گروپس کی صورتحال کو مزید پیچیدہ اور دلچسپ بنا دیا ہے۔ شائقین فٹبال اب آنے والے میچز میں ٹیموں کی کارکردگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی کی دوڑ مزید سخت ہونے جا رہی ہے۔
گروپ ایچ کے ایک دلچسپ اور سنسنی خیز میچ میں سعودی عرب نے یوراگوئے کے خلاف شاندار آغاز کیا اور پہلے ہاف میں برتری حاصل کر لی۔ سعودی مدافع عبداللہ العمری نے کارنر کک پر پیدا ہونے والی صورتِ حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گیند جال میں پہنچا دی۔ یوراگوئے کے تجربہ کار گول کیپر فرنانڈو موسلیرا ابتدائی شاٹ کو مکمل طور پر کلیئر نہ کر سکے اور ریباؤنڈ پر سعودی ٹیم نے گول اسکور کر لیا۔
سعودی عرب نے پہلے ہاف میں منظم دفاعی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے یوراگوئے کے حملوں کو محدود رکھا اور ایک بار پھر 2022 ورلڈ کپ میں ارجنٹائن کے خلاف اپنی تاریخی کامیابی کی یاد تازہ کرنے کی کوشش کی۔
دوسرے ہاف میں یوراگوئے کے کوچ مارسیلو بیلسا نے حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے اہم تبدیلیاں کیں جس کے بعد جنوبی امریکی ٹیم نے میچ پر گرفت مضبوط کرنا شروع کر دی۔ سعودی گول کیپر محمد ال اویس نے متعدد شاندار سیوز کر کے اپنی ٹیم کو برتری دلائے رکھی، تاہم مسلسل دباؤ بالآخر رنگ لے آیا۔
میچ کے آخری حصے میں میکسی آروجو نے ایک ریباؤنڈ گیند کو جال میں پہنچا کر یوراگوئے کو برابری دلائی۔ اس کے بعد بھی یوراگوئے نے جیت کے لیے بھرپور کوششیں کیں لیکن سعودی دفاع اور گول کیپر نے مزید نقصان سے بچا لیا۔ میچ ایک ایک گول سے برابر ختم ہوا اور دونوں ٹیموں نے ایک ایک پوائنٹ حاصل کیا۔
ادھر گروپ جی میں مصر بیلجیئم کے خلاف اپنی تاریخ کی پہلی ورلڈ کپ فتح حاصل کرنے کے انتہائی قریب پہنچ گیا تھا، لیکن ایک بدقسمت سیلف گول نے اس کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
میچ کے 21ویں منٹ میں مصری مڈفیلڈر ایمان عاشور نے شاندار لانگ رینج شاٹ کے ذریعے اپنی ٹیم کو برتری دلائی۔ ان کا طاقتور شاٹ بیلجیئم کے عالمی شہرت یافتہ گول کیپر تھیباؤٹ کورٹوئس کو شکست دیتے ہوئے سیدھا جال میں جا پہنچا۔
پہلے ہاف میں مصر کو مزید مواقع بھی ملے لیکن کورٹوئس کی عمدہ گول کیپنگ نے بیلجیئم کو مزید نقصان سے بچائے رکھا۔ دوسرے ہاف میں مصری کپتان محمد صلاح نے بھی ایک خطرناک ہیڈر کے ذریعے اسکور بڑھانے کی کوشش کی، تاہم بیلجیئم کے گول کیپر نے بہترین سیو کر لیا۔
میچ کا اہم موڑ 66ویں منٹ میں آیا جب بیلجیئم کے کوچ روڈی گارشیا نے رومیلو لوکاکو کو میدان میں اتارا۔ ان کی آمد کے بعد بیلجیئم کے حملوں میں نمایاں تیزی آئی اور چند ہی لمحوں بعد تھامس میونیئر کی جانب سے بھیجی گئی گیند مصری مدافع محمد ہانی کے پاؤں سے لگ کر اپنے ہی جال میں چلی گئی۔
اس سے قبل بیلجیئم کے اسٹار مڈفیلڈر کیون ڈی بروئن کی ایک فری کک بھی پوسٹ سے ٹکرا چکی تھی، جس سے یورپی ٹیم کے مسلسل دباؤ کا اندازہ ہوتا تھا۔
سیئٹل میں موجود مصری شائقین نے اپنی ٹیم کی بھرپور حوصلہ افزائی کی، تاہم مصر ایک بار پھر ورلڈ کپ میں اپنی پہلی فتح حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ 1934 میں پہلی بار عالمی کپ میں شرکت کرنے والی مصری ٹیم اب تک ورلڈ کپ میں کامیابی حاصل نہیں کر سکی، لیکن بیلجیئم جیسے مضبوط حریف کے خلاف ایک قیمتی پوائنٹ حاصل کرنا اس کے لیے حوصلہ افزا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
