اسلام آباد، پاکستان کے شمالی قراقرم پہاڑی سلسلے میں واقع براڈ پیک (Broad Peak) پر برفانی تودہ گرنے کے بعد عالمی شہرت یافتہ نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا (نمس ڈائی) سمیت 10 کوہ پیماؤں کے لاپتہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق جمعرات کو اطلاع موصول ہوئی کہ 43 سالہ نرمل پرجا کی قیادت میں ایک بین الاقوامی کوہ پیمائی ٹیم براڈ پیک پر برفانی تودے کی زد میں آ گئی، جس کے بعد سے تمام ارکان سے رابطہ منقطع ہے۔
الپائن کلب آف پاکستان کے نائب صدر کرار حیدری نے بتایا کہ لاپتہ ٹیم میں پانچ نیپالی کوہ پیما شامل ہیں، جبکہ ایک ایک کوہ پیما امریکہ، پاکستان، عمان اور چین سے تعلق رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک اور غیر ملکی کوہ پیما بھی اس مہم کا حصہ تھا، تاہم اس کی شناخت فوری طور پر ظاہر نہیں کی گئی۔
حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں سے رابطہ کیا جا رہا ہے، جبکہ موسم سازگار ہونے کی صورت میں ہیلی کاپٹروں کی مدد سے تلاش اور امدادی کارروائیاں شروع کی جائیں گی۔
براڈ پیک قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع 8,047 میٹر (26,401 فٹ) بلند چوٹی ہے اور دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی شمار کی جاتی ہے، جہاں ہر سال دنیا بھر سے کوہ پیما مہمات کے لیے پہنچتے ہیں۔
نرمل پرجا کو عالمی شہرت 2019 میں اس وقت ملی جب انہوں نے صرف چھ ماہ کے عرصے میں دنیا کی 8 ہزار میٹر سے بلند تمام 14 چوٹیاں سر کر کے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ اس غیر معمولی کارنامے پر مبنی 2021 میں نیٹ فلکس کی دستاویزی فلم "14 Peaks: Nothing Is Impossible” بھی ریلیز ہوئی، جس نے انہیں بین الاقوامی سطح پر مزید شہرت دلائی۔
پرجا اس سے قبل برطانوی فوج اور بعد ازاں رائل میرینز میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے 2003 میں برطانوی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی اور 2009 میں برطانوی اسپیشل فورسز کا حصہ بنے۔
ریسکیو حکام نے تاحال لاپتہ کوہ پیماؤں کی حالت یا برفانی تودے سے ہونے والے ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں کوئی حتمی تصدیق جاری نہیں کی۔

