لندن/کیف: برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے رہنماؤں نے یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے جنگ بندی مذاکرات کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
برطانوی وزیراعظم Keir Starmer، جرمن چانسلر Friedrich Merz اور فرانسیسی صدر Emmanuel Macron نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ممکنہ جنگ بندی مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یورپی رہنما یوکرین کی امن کی کوششوں کو سراہتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی بھی مذاکراتی عمل میں امریکہ اور یورپ کی فعال شرکت ضروری ہے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے حالیہ دنوں میں روس کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی تجویز دی تھی، تاہم روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا کوئی عملی فائدہ نظر نہیں آتا۔
یورپی رہنماؤں نے اپنے بیان میں کہا کہ فوری اور مکمل جنگ بندی مذاکرات کا پہلا مرحلہ ہونا چاہیے، جبکہ بعد میں ایک جامع اور دیرپا امن معاہدے کی طرف پیش رفت کی جائے۔
بیان کے مطابق کسی بھی ممکنہ معاہدے کی بنیاد موجودہ محاذ کی لائن ہونی چاہیے، جبکہ یوکرین کو مضبوط سیکیورٹی ضمانتیں فراہم کی جائیں۔ اس کے علاوہ روسی اثاثوں کو اس وقت تک منجمد رکھنے کی تجویز بھی دی گئی ہے جب تک ماسکو جنگ سے ہونے والے نقصانات کی تلافی نہیں کرتا۔
یورپی رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مستقبل میں یورپی سلامتی کے مفادات کو کسی بھی امن معاہدے میں مرکزی حیثیت دی جائے گی۔
