نئی دہلی: معروف بھارتی سماجی و ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے "مختلف شرائط پر طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر” اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
59 سالہ وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں جاری "کاکروچ موومنٹ” سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی، جو میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحان کے مبینہ پرچہ لیک اسکینڈل کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔
احتجاج کرنے والے طلبہ اور کارکنان کا مطالبہ ہے کہ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان امتحانی نظام میں مبینہ بدانتظامی اور پرچہ لیک کے معاملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
بھارت میں گزشتہ کئی ہفتوں سے تعلیمی نظام میں شفافیت، امتحانات کی ساکھ اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جبکہ حکومت امتحانی نظام میں اصلاحات اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا عندیہ دے چکی ہے۔

