مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایران نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے جواب میں شمالی اسرائیل کی جانب تقریباً 10 بیلسٹک میزائل داغے جبکہ اس سے پہلے اسرائیل نے جنگ بندی کی امریکی کوششوں کے باوجود بیروت کے مضافاتی علاقوں پر فضائی حملہ کیا۔
اسرائیلی فوج (IDF) کے مطابق گزشتہ ایک گھنٹے کے دوران ایران کی جانب سے داغے گئے تمام میزائل یا تو فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیے یا وہ غیر آباد علاقوں میں گرے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کے نتیجے میں کسی جانی نقصان، زخمی ہونے یا مالی نقصان کی فوری اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔
آئی ڈی ایف ہوم فرنٹ کمانڈ کے مطابق شمالی اسرائیل کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے تھے، تاہم بعد ازاں شہریوں کو بم پناہ گاہوں سے باہر آنے کی اجازت دے دی گئی۔ فوج نے دعویٰ کیا کہ آج رات ایران کی جانب سے داغے گئے تمام بیلسٹک میزائلوں کو کامیابی سے ناکارہ بنا دیا گیا۔
دوسری جانب اسرائیل نے اتوار کے روز بیروت کے جنوبی مضافات پر فضائی حملہ کیا، جو امریکہ کی جانب سے گزشتہ ہفتے پیش کیے گئے جنگ بندی منصوبے کے بعد اس نوعیت کا پہلا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی لبنان میں جاری کشیدگی اور حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فوجی مہم کے تناظر میں کی گئی۔
ایران نے اسرائیلی حملے کو اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ایران کے پارلیمانی اسپیکر Mohammad Bagher Ghalibaf نے کہا کہ لبنان سے متعلق معاہدوں کی خلاف ورزی اور خطے میں جاری حملوں کے باعث اسرائیلی مفادات اور امریکی اڈے جائز اہداف بن سکتے ہیں۔
ادھر امریکی ذرائع کے مطابق صدر Donald Trump کو ایران اور اسرائیل کے درمیان تازہ کشیدگی سے متعلق بریفنگ دی گئی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ پیش رفت خطے میں جاری سفارتی کوششوں اور جنگ بندی مذاکرات کے لیے ایک نیا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔
