لبنان کی مسلح افواج کے سربراہ روڈولف ہائیکل سرکاری دورے پر پاکستان روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ دورہ پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف سید عاصم منیر کی دعوت پر کیا جا رہا ہے اور اسے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی و عسکری تعاون کے فروغ کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطے، اور خطے میں سیکیورٹی چیلنجز عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کی جانب سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کے تناظر میں بھی اس دورے کو اہمیت حاصل ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق لبنانی فوج نے ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں تصدیق کی کہ جنرل روڈولف ہائیکل پاکستان کے دورے پر روانہ ہو چکے ہیں۔ فوجی بیان میں بتایا گیا کہ یہ دورہ پاکستانی فوج کے سربراہ کی دعوت پر ہو رہا ہے، تاہم اس کی مدت اور تفصیلی ایجنڈے کے بارے میں فوری طور پر مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
مبصرین کے مطابق دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، عسکری تربیت، پیشہ ورانہ تبادلوں، انسداد دہشت گردی کے شعبے میں تعاون اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ پاکستان اور لبنان کے درمیان دفاعی روابط گزشتہ برسوں میں بتدریج مضبوط ہوئے ہیں اور دونوں ممالک مختلف بین الاقوامی فورمز پر بھی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
لبنانی فوج کے سربراہ کی پاکستان آمد سے دونوں ممالک کے عسکری تعلقات کو مزید تقویت ملنے اور دفاعی شعبے میں نئے تعاون کے امکانات روشن ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
