تہران: ایران اور لبنان کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں ایرانی حکام نے لبنانی صدر Joseph Aoun کے حالیہ بیانات پر سخت ردِعمل دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی صدر جوزف عون کے اس بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا جس میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ ایران امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں لبنان کو ایک "سودے بازی کے مہرے” کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ صدر عون کے بیانات سے ایسا تاثر ملتا ہے جیسے لبنان کے مسائل کا ذمہ دار ایران ہو، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران لبنان کو امریکا کے ساتھ مذاکرات میں بطور دباؤ استعمال کرنا چاہتا تو اس حوالے سے کوئی سمجھوتہ بہت پہلے طے پا چکا ہوتا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ لبنانی صدر نے اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کو تنہا چھوڑ دیا ہے اور وہ ان قوتوں کے پیچھے چل رہے ہیں جو لبنان پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان کو اپنے حقیقی مسائل اور خطرات پر توجہ دینی چاہیے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے لبنانی قیادت پر زور دیا کہ وہ لبنان کو "اصل دشمن” سے محفوظ بنانے پر توجہ دے اور خطے میں جاری بحرانوں کے اسباب کا حقیقت پسندانہ جائزہ لے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ لبنانی صدر نے اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کو تنہا چھوڑ دیا ہے اور وہ ان قوتوں کے پیچھے چل رہے ہیں جو لبنان پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان کو اپنے حقیقی مسائل اور خطرات پر توجہ دینی چاہیے۔
یہ بیان بازی اس وقت سامنے آئی ہے جب چند روز قبل صدر جوزف عون نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران کو لبنان کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور بیروت کو علاقائی طاقتوں کی کشمکش کا میدان نہیں بننا چاہیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ خطے میں جاری سیاسی اور سکیورٹی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ لبنان کے اندر بھی ایران کے حمایت یافتہ گروہوں اور ریاستی اداروں کے کردار پر بحث جاری ہے۔
