ماسکو: کریملن نے واضح کیا ہے کہ روس کی جانب سے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو ماسکو آنے اور مذاکرات کرنے کی پیشکش اب بھی برقرار ہے۔
روسی صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے سینٹ پیٹرزبرگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ولادیمیر پیوٹن نے کبھی یہ نہیں کہا کہ مذاکرات کی دعوت واپس لے لی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ “یہ وہ بات نہیں ہے جو صدر نے کہی تھی، اس کے منہ میں الفاظ ڈالنے کی کوشش نہ کی جائے۔”
پیسکوف سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم (SPIEF) میں پیوٹن کے خطاب کے بعد دعوت منسوخ ہو گئی ہے، تو انہوں نے واضح طور پر کہا: “نہیں، ایسا کوئی راستہ نہیں ہے۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 29واں سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم جاری ہے، جس کا عنوان “عملی مکالمہ: مستحکم مستقبل کا راستہ” رکھا گیا ہے۔ اس سال سعودی عرب کو فورم کا مہمان ملک نامزد کیا گیا ہے۔
فورم میں عالمی معیشت، ترقیاتی ماڈلز، چھوٹے و درمیانے کاروبار، کری ایٹو انڈسٹریز اور دیگر شعبوں پر مختلف سیشنز منعقد کیے جا رہے ہیں۔
کریملن کے مطابق روس کی جانب سے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے گئے اور سفارتی رابطوں کے امکانات بدستور موجود ہیں۔
