اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جنوبی سوڈان کے خلاف عائد اسلحہ پابندی، سفری پابندیوں اور اثاثے منجمد کرنے سمیت مختلف پابندیوں میں مزید ایک سال کی توسیع کی منظوری دے دی ہے۔
چینی خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق سلامتی کونسل نے قرارداد نمبر 2821 کو نو ووٹوں کی حمایت سے منظور کیا، جبکہ چھ ممالک نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ لینے سے گریز کیا۔
قرارداد کے تحت جنوبی سوڈان پر اسلحہ پابندی 31 مئی 2027 تک برقرار رہے گی، جبکہ اس ملک کی صورتحال کی نگرانی کرنے والے ماہرین کے پینل کی مدت کار بھی یکم جولائی 2027 تک بڑھا دی گئی ہے۔
ووٹنگ کے دوران سلامتی کونسل کے افریقی اراکین جمہوریہ کانگو، لائبیریا اور صومالیہ کے علاوہ چین، پاکستان اور روس نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد میں گزشتہ سال نافذ کی گئی پابندیوں کو بغیر کسی بنیادی تبدیلی کے برقرار رکھا گیا ہے۔ قرارداد میں واضح کیا گیا ہے کہ سلامتی کونسل جنوبی سوڈان کی جانب سے مقررہ اصلاحاتی اہداف کے حصول میں پیش رفت کی بنیاد پر اسلحہ پابندیوں پر نظرثانی، نرمی یا مرحلہ وار خاتمے پر غور کر سکتی ہے۔
اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جنوبی سوڈان میں اقوام متحدہ کے مشن اور ماہرین کے پینل کے ساتھ مشاورت کے بعد 15 اپریل 2027 تک پیش رفت سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔
قرارداد کے مطابق جنوبی سوڈان کی حکومت کو بھی اسی تاریخ تک پابندیوں کی کمیٹی کو اپنی پیش رفت سے آگاہ کرنا ہوگا تاکہ ملک میں امن، استحکام اور سلامتی کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔
سلامتی کونسل نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ جنوبی سوڈان کی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیتی رہے گی اور ضرورت پڑنے پر پابندیوں میں ترمیم، معطلی، خاتمہ یا مزید سختی جیسے اقدامات پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ جنوبی سوڈان کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیاں پہلی مرتبہ مارچ 2015 میں نافذ کی گئی تھیں، جن میں اثاثے منجمد کرنا، سفری پابندیاں اور جامع اسلحہ پابندی شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ملک میں جاری تنازعات، سیاسی عدم استحکام اور مسلح سرگرمیوں کو محدود کرنا تھا۔
