لیما: قدامت پسند رہنما کیکو فوجیموری نے صدارتی انتخاب میں انتہائی معمولی برتری سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد پیرو کی نئی صدر کے طور پر حلف اٹھا لیا۔ ان کی کامیابی کو جنوبی امریکہ میں قدامت پسند سیاسی رجحان کے مزید مضبوط ہونے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
51 سالہ کیکو فوجیموری، جو ملک کی بڑی سیاسی جماعت پاپولر فورس کی سربراہ ہیں، گزشتہ ایک دہائی کے دوران پیرو کی نویں صدر بن گئی ہیں۔ انہوں نے اپنی افتتاحی تقریب میں عزم ظاہر کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح سیاسی استحکام، جرائم پر قابو پانا، معیشت کو مضبوط کرنا اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو تیز کرنا ہوگی۔
پیرو گزشتہ کئی برسوں سے سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے، جہاں متعدد صدور یا تو مستعفی ہوئے یا بدعنوانی کے الزامات اور احتجاجی تحریکوں کے باعث اپنے عہدوں سے ہٹائے گئے۔ نئی پارلیمنٹ میں کیکو فوجیموری کی جماعت اور اس کے اتحادیوں کو نمایاں اکثریت حاصل ہونے کے باعث ان کی حکومت کو قانون سازی میں نسبتاً مضبوط پوزیشن حاصل ہوگی۔
اپنی انتخابی مہم کے دوران کیکو فوجیموری نے ملک میں بڑھتے ہوئے جرائم کے خلاف سخت کارروائی کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت منظم جرائم، بھتہ خوری اور تشدد کے خاتمے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کرے گی، جبکہ سرکاری و نجی شعبے کے اشتراک سے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو بھی فروغ دیا جائے گا۔
کیکو فوجیموری سابق صدر البرٹو فوجیموری کی صاحبزادی ہیں، جنہوں نے 1990 کی دہائی میں پیرو کی قیادت کی تھی۔ اگرچہ ان کے دور میں معیشت میں بہتری اور شدت پسند گروہوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں ہوئیں، تاہم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث انہیں بعد ازاں سزا کا سامنا کرنا پڑا۔
صدر کیکو فوجیموری نے اپنے خطاب میں سماجی بہبود کے پروگراموں کی تنظیم نو، دیہی علاقوں میں غذائی قلت کے خاتمے، کم از کم اجرت میں 15 فیصد اضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں خصوصاً ایل نینو کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنے کا اعلان بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کا مقصد صرف ریاستی امور چلانا نہیں بلکہ لاکھوں پیرو باشندوں کو درپیش معاشی اور سماجی مسائل میں حقیقی بہتری لانا ہے۔

