واشنگٹن/عمان: امریکی عسکری کمانڈ (سینٹ کام) نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ اردن میں تعینات امریکی فوجی اڈوں پر گزشتہ روز ہونے والے ایران بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں 2 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 4 شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق، یہ جانی نقصان اس وقت ہوا جب امریکی اور اتحادی افواج ایرانی فضائی حملوں کو روکنے اور ان کا دفاع کرنے کی کوششوں میں مصروف تھیں۔
سینٹ کام نے اپنے تفصیلی بیان میں اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ حملوں کے بعد سے ایک اور امریکی فوجی اہلکار لاپتہ ہے، جس کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر فی الحال ہلاک، زخمی اور لاپتہ ہونے والے فوجیوں کی شناخت اور واقعے کی دیگر حساس تفصیلات کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ امریکی کمانڈ کا کہنا ہے کہ اردن کی سرزمین پر ہونے والے اس بڑے ایرانی حملے کے بعد خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور نقصانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، جس کے بعد جوابی حکمتِ عملی کا اعلان کیا جائے گا۔ اس تازہ ترین عسکری تصادم کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی فورسز اور ایرانی نیٹ ورک کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔
